بنگلور،05؍ فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک کے کالجوں میں حجاب پہننے کے اپنے حق کو لے کر طالبات کا احتجاج اب بہت سے کالجوں میں پھیل چکا ہے۔ آج صبح تقریباً 40 حجاب پہنچنے طالبات کرناٹک کے اڈوپی ضلع کے ساحلی شہر کنداپور میں بھنڈارکر آرٹس اینڈ سائنس ڈگری کالج کے مین گیٹ پر کھڑی ہوگئیں، جب کالج کے عملے نے انہیں اندر جانے سے انکار کر دیا۔
حجاب اتارنے کو کہا لیکن طالبات نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کالج کے مین گیٹ پر ہی جمع ہو گئیں۔ اس احتجاج کی وجہ سے دوسرے دن بھی اس کی کلاس چھوٹ گئی۔18 سے 20 سال کی عمر کے تمام طالبات نے یہ جاننے کا مطالبہ کیا کہ انتظامیہ نے حجاب پر پابندی کیوں عائد کی جب کہ قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں۔
کالج کے ہدایاتی کتابچے کے مطابق لڑکیوں کو کیمپس کے اندر اسکارف پہننے کی اجازت ہے، تاہم اسکارف کا رنگ دوپٹہ سے مماثل ہونا چاہیے، اور کسی بھی طالبات کو کینٹین سمیت کالج کے احاطے کے اندر کوئی دوسرا لباس پہننے کی اجازت نہیں ہے۔
پرنسپل نارائن شیٹی کا کہنا ہے کہ وہ کیمپس میں ہم آہنگی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سرکاری ملازم ہوں۔ مجھے حکومت کی تمام ہدایات پر عمل کرنا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ کچھ طالبات بھگو شالیں پہن کر کالج میں داخل ہوں گی، اور اگر مذہب کے نام پر خیر سگالی کی خلاف ورزی ہوئی تو پرنسپل ذمہ دار ہوں گے۔
40 کے قریب مسلم لڑکے بھی کالج کے باہر بیٹھ گئے اور لڑکیوں کی حمایت میں احتجاج کیا۔



