’اویسی کاقتل کرنا چاہتا تھا‘،حملہ آورکا اعتراف جرم شوٹر نے مجلس کے امیدوارعارف کابھی نام لیا
میرٹھ5فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اویسی پر حملے پرجم کرسیاست گرم ہے۔الیکٹرانک میڈیا بھی اس معاملے کوخوب ہوا دے رہاہے،جس سے یقینی طورپرپولرائزیشن کی سیاست کوفائدہ ہوگا۔ایک طرف مجلس کہیں احتجاج کررہی ہے،خود اویسی لگاتار بیان دے رہے ہیں ، دوسری طرف میڈیابھی اس پرتوجہ دے رہاہے ۔
یہی نہیں،مجلس کے پرانے بیان دوہرائے جارہے ہیں اورلوگوں کو یاد دلائے جارہے ہیں۔مغربی یوپی میں پوری کوشش ہے کہ کسی طرح پولرائزیشن ہو جس سے ایک خاص طبقہ کا فائدہ ہو۔اویسی پر حملے کے بعد اس پر سیاست تیز ہوگئی ہے۔
جب کہ اس سے پہلے مغربی یوپی میں تقریباََ مقابلہ بی جے پی اورسماجوادی پارٹی کے آمنے سامنے کاتھا،حملے کے بعد جہاں مسلم ووٹ تقسیم ہوسکتے ہیں وہیں پولرائزیشن کی سیاست سے ایک خاص طبقہ فائدہ اٹھاسکتاہے۔
اتر پردیش کے ہاپوڑمیں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی کی گاڑی پر فائرنگ کے معاملے میں پکڑے گئے ملزم شوٹر سچن شرما نے پولیس کے سامنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا۔
اس نے کہاہے کہ اویسی نے اسے گولی چلاتے ہوئے دیکھا تھا، ورنہ وہ انھیں مار ڈالتا۔ دریں اثنا، پولیس نے بتایا ہے کہ اویسی پر حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار میرٹھ سے منگوائے گئے تھے۔
پولیس نے اس معاملے میں دو ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ کچھ اور لوگوں کی گرفتاری ہو سکتی ہے۔اویسی پر فائرنگ کرنے والے ملزم نے پولیس کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں کئی انکشافات کیے ہیں۔
شوٹر سچن شرما نے اپنے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ اس نے کار کے نچلے حصے سے گولیاں چلائی تھیں لیکن اویسی نے گولیاں چلتی دیکھ کر خود کو چھپانے کی کوشش کی۔ سچن نے کہاہے کہ اگر اویسی نہ دیکھتے تو میں مار دیتا۔
سچن نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اویسی کو مار کر بڑا لیڈر بننا چاہتے تھے۔ اس نے اعترافی بیان میں کہاہے کہ میں سوشل میڈیا پر اویسی کے بیان کو اکثر دیکھتا اور سنتا تھا۔ ان کا بیان مذہب کی سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔
میں اپنے آپ کو ایک محب وطن اور محب وطن ہندو سمجھتا ہوں، اس لیے مجھے ان سے اور ان کی پارٹی کے خلاف دشمنی ہے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حملہ آورنے مزید کہا ہے کہ اس کے لیے میں ڈاسنا سے ان کی پارٹی کے رکن عارف کے بہت قریب آیا،جوڈھولنا سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔



