بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات
فارم ہاؤس سے لاپتہ انجینئر کا سفاکانہ قتل کئی ٹکڑوں میں ملا ڈھانچہ، ڈی این اے رپورٹ میں کھلا راز
درگ ، 5فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) چھتیس گڑھ کے درگ ضلع کے چندکھوری میں 5 جنوری کو ملنے والے انسانی ڈھانچہ کی تصدیق ہو گئی ہے۔ جو انسانی ڈھانچہ ملا ہے وہ چندرکھوری کے لاپتہ انجینئر شیوانگ چندراکر کا ہے۔
اس کی تصدیق ڈی این اے رپورٹ سے ہوئی ہے۔ اب پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش بڑھا دی ہے۔ واضح ہو کہ شیوانگ چندراکر 16 دسمبر کو چندکھوری میں واقع اپنے فارم ہاؤس سے واپس آتے ہوئے اچانک لاپتہ ہو گیا تھا۔ اگلے دن اس کی موٹر سائیکل شیو ناتھ ندی کی سڑک پر ملی۔
جس کے بعد کافی تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا،5 جنوری کو جب یہ انسانی ڈھانچہ چندکھوری کے کھیت سے ملا تو خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ ڈھانچہ شیوانگ کا ہو سکتا ہے۔ اس کی تصدیق کے لیے پولیس نے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لیب بھیجا تھا جس کی رپورٹ آج آئی ہے۔
اس کی تصدیق کرتے ہوئے درگ کے اے ایس پی سنجے دھرو نے کہا کہ پولیس اب قتل کی دفعہ کے تحت جرم درج کرکے اپنی تحقیقات کر رہی ہے۔ شیوانگ سے متعلق لوگوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ پولیس نے ایک کلائی گھڑی، ایک ٹی شرٹ اور چپل بھی برآمد کی تھی ،جہاں سے شیوانگ چندراکر جو پیشہ سے انجینئر ہے ،کی لاش ملی تھی۔ اس سارے معاملہ کو لے کر گھر والے اور رشتہ دار بہت پریشان تھے۔
پولیس نے شیوانگ کا پتہ بتانے والے کو ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ متوفی شیوانگ کا ایک لڑکی سے چار سال سے عشق چل رہا تھا اور لڑکی شادی کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی لیکن شیوانگ نے انکار کر دیا تھا۔ یہ معاملہ بھی شک کی زد میں ہے۔ اس کے علاوہ پولیس متوفی شیوانگ اس کے دوست جاننے والے اور گاؤں والوں سے بھی پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی ملزمان پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔



