فلمی دنیاقومی خبریں

موسیقی کے ایک عہد کا خاتمہ : سروں کی ملکہ لتا منگیشکر کا انتقال ، ممبئی میں ریاستی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا

صدر جمہوریہ ، وزیراعظم ،پڑوسی ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم سمیت معزز شخصیات کا خراجِ عقیدت

پی ایم مودی کی آخری رسومات میں شرکت ، ریاستی حکومت کی طرف سے یک روز ہ سوگ اور عام تعطیل کا اعلان

نئی دہلی؍ممبئی ، 6فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سروں کی ملکہ اور فن موسیقی میں اپنی بے مثال مہارت ، فنی کمال اور اعلیٰ ہنر کے باعث بھارت رتن جیسے اعلیٰ ترین شہری ایوارڈ یافتہ لتا منگیشکر انتقال کرگئیں ،ان کی آخری رسومات ریاستی اعزز کے ساتھ ممبئی میں ادا کی گئی ۔

اُن کا انتقال ایک فرد کا انتقال نہیں ؛بلکہ موسیقی کے ایک سنہرے عہد کا خاتمہ ہے ۔ لتا منگیشکر کی موت پر صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند، نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت مختلف شخصیات نے تعزیت کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ 92 سالہ گلوکار کرونا وائرس سے متاثر پائی گئی تھیں، تاہم ان میںمرض کی معمولی علامات تھیں۔ انہیں 8 جنوری کو بریچ کینڈی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں ڈاکٹر پریت سمدانی اور ان کی ٹیم ان کا علاج کر رہی تھی۔

جنوری میں لتا منگیشکر کی صحت میں بہتری آئی تھی اور وینٹی لیٹر ہٹا لیا گیا تھا، لیکن ہفتہ کو ان کی صحت بگڑ گئی۔ منگیشکر اتوار کو اس وقت انتقال کر گئیں، جب ان کے کئی اعضاء کام کرناچھوڑ دیئے تھے۔

صدرجمہوریہ وزیر اعظم سمیت دیگر معزز شخصیات نے لتا منگیشکر کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔وہیں ہمسایہ ملک کے معزز شخصیات بشمول پاکستانی وزیراعظم عمران خان نیازی، بنگلہ دیشی صدر عبدالحمید ، اور وزیراعظم شیخ حسینہ نے بھی اظہارِ تعزیت کیا ہے ۔

انہیں ریاستی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئی ۔ ان کی جسد خاکی کو ترنگے میں لپیٹ کر مسلح افواج نے آخری سلامی پیش کی۔آخری رسومات میں پی ایم مودی ، شاہ رخ خان اور سچن تندولکر سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں ۔

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے ٹوئٹر پر پلے بیک سنگر کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کی اور لکھاکہ ’لتا جی کا انتقال میرے لیے اور دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کے لیے شکستگی دل کا باعث ہے۔ ان کے گائے ہوئے گیت ہندوستان کی خوبصورتی کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارت رتن لتا منگیشکر کے کارنامے بے مثال ہیں۔

اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے صدر جمہوریہ کووند نے کہا کہ لتا دیدی ایک منفرد شخصیت تھیں اور ان کے جیسا فنکار صدیوں میں ایک بار ہی پیدا ہوتے ہیں۔وزیر اعظم مودی نے آنجہانی لتا منگیشکر کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی اور کہا کہ لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت سے ایک خلا پیدا ہوا ہے ، جسے پر نہیں کیا جا سکتا۔

مودی نے کہاکہ لتا دیدی نے اپنے گانوں کے ذریعے مختلف جذبات کا اظہار کیا، انہوں نے کئی دہائیوں کے دوران ہندوستانی فلم انڈسٹری میں ہونے والی تبدیلیوں کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ فلموں سے ہٹ کر وہ ہمیشہ ہندوستان کی ترقی کے لیے پرجوش رہتی تھیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں اپنے دُکھ کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا،آج لتا دیدی ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں۔ آنے والی نسلیں انہیں ہندوستانی ثقافت کے باوقار شخصیت کے طور پر یاد رکھیں گی، جن کی سریلی آواز میں لوگوں کو مسحور کرنے کی بے مثال صلاحیت تھی۔

مودی نے کہا کہ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے لتا دیدی سے ہمیشہ بہت پیار ملا ہے۔ نائب صدرجمہوریہ کے سکریٹریٹ نے نائیڈو کا حوالہ دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ہندوستانی سنیما کی سروں کی ملکہ لتا منگیشکر کا انتقال ملک اور موسیقی کی دنیا کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔نائیڈو نے کہاکہ لتا جی کے انتقال سے آج ہندوستان نے وہ آواز کھو دی ہے جس نے ہر موقع پر قومی جذبے کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ملک کی امید اور تمنائیں ان کے گانوں میں جھلکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لتا جی کی سریلی آواز کئی دہائیوں تک ملک میں فلمی موسیقی کی پہچان تھی۔مرکزی وزیر نتن گڈکری نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیاکہ پاک روح کو میرا دلی خراج عقیدت۔وہیں فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات اداکار امیتابھ بچن، شبانہ اعظمی، اکشے کمار، اجے دیوگن اور فلمساز ہنسل مہتا نے گلوکار ہ کو خراج تحسین پیش کیا۔

شبانہ ا عظمی نے کہاکہ ان کی آواز ہماری زندگی کو روشنی بخشتی ہے ، جب ہم غمگین ہوتے ہیں تو ہمیں ان کی آواز سن کر سکون ملتا ہے، جب ہم کمزور ہوتے ہیں تو ہمیں طاقت ملتی ہے۔اکشے کمار نے ٹویٹ کیا کہ لتا منگیشکر جی کے انتقال سے گہرا دکھ ہوا، میری تعزیت اور دعائیں۔

اجے دیوگن نے لکھاکہ لتا جی ایک عظیم شخصیت کی مالک تھی،میں ان کے گانوں کو وراثت سمجھ کر ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہم لتا جی کے گانے سنتے ہوئے بڑے ہوئے۔ منگیشکر کے خاندان سے میری تعزیت پیش ہے ۔

وہیں پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ :’ لتا منگیشکر کا انتقال موسیقی کے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ لتا جی نے عشروں تک سروں کی دنیا پر حکمرانی کی ، ان کی آواز کا جادو رہتی دنیا تک رہے گا، جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے، وہاںوہاں لتا منگیشکر کو الوداع کہنے والے کا ہجوم ہے‘‘۔

وہیں بنگلہ دیش کے صدر اور وزیراعظم نے بھی اس موقعہ پر تعزیت پیش کی ہے ،نیز نیپال سے بھی اظہارِ تعزیت موصول ہوئی ہے ۔ نیپال صدر ودیا دیوی بھنڈاری نے نے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے ۔

واضح ہو کہ سروں کی ملکہ لیجنڈری لتا منگیشکر کے انتقال پر مہاراشٹرا کی ریاستی حکومت نے یک روزہ ریاستی سوگ اور عام تعطیل کا اعلان کیا ہے ۔ واضح ہو کہ لتا منگیشکرنے اپنے کیریئر کا آغاز بطور گلوکارہ 1942 میں کیا اور سات دہائیوں سے زائد عرصے تک ہندی، مراٹھی، تامل، کنڑ اور بنگالی سمیت 36 ہندوستانی زبانوں میں تقریباً 25,000 گانے گائے۔

انہوں نے اکثر معروف شاعروں اور نغمہ نگاروں ،جن میں علامہ اقبال، مرزا غالبؔ ، کیفی اعظمی، مجروح سلطان پوری ، گلزاراورجاوید اختر کے لکھی غزل اور نغمے گائے ہیں ۔ لتا منگیشکر نے ’اے میرے وطن کے لوگوں‘، ’لگ جا گلے‘، ’موہے پنگھٹ پہ‘، ’چلتے چلتے‘، ’ستیم شیوم سندرم‘، جیسے سینکڑوں مشہورگانوں کو اپنی سریلی آواز دی ہے ۔

لتا منگیشکر نے علامہ اقبال کی معروف غزل ’’کبھی اے حقیقت ِ منتظر نظرآلباسِ مجاز میں ‘ کو بھی اپنی آواز دی ہے ۔ہندوستانی سنیما کی عظیم پلے بیک سنگرز میں سے ایک سمجھی جانے والی لتا منگیشکر کو کئی فلمی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔

انہیں پدم بھوشن، پدم وبھوشن، دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سمیت کئی دیگر ہندوستانی فلمی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ انہیں 2001 میں موسیقی کی بے مثال خدمات کے صلہ میں ہندوستان کا سب سے بڑا شہری ایوارڈ بھارت رتن بھی عطا کیا گیا ہے۔۔

متعلقہ خبریں

Back to top button