مسئلہ حجاب : تمام اداروں کو یونیفارم کے اصول کو سختی سے نافذ کرنا چاہیے :وزیراعلیٰ کرناٹک
بنگلور ،7فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کو لے کر پیداشدہ تنازعہ میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کا بیان بالآخر منظر عام پر آ گیا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ہائی کورٹ میں معاملہ کی سماعت سے قبل امن برقرار رکھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت کے حکم کے بعد حکومت مزید اقدامات کرے گی،۔
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جب تک اس معاملہ میں عدالت کا حکم نہیں آجاتا، تمام تعلیمی اداروں کو حکومت کی جانب سے یونیفارم کے حوالے سے جاری کردہ قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔بنگلور میں میڈیا اہلکار سے بات کرتے ہوئے بومئی نے کہاکہ معاملہ اب ہائی کورٹ میں ہے اور وہاں اس کا فیصلہ ہو گا۔
تب تک تمام لوگوں کو پرسکون رہنا چاہیے اور کسی بھی طرح کے نقضِ امن پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا حکم کل تک آجائے گا۔ اس کے بعد ہم مزید اقدامات کریں گے، تب تک طلبہ کو یونیفارم کے حوالے سے ریاستی حکم کی تعمیل کرنی ہوگی۔
بومئی نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں پہننے والے یونیفارم کے بارے میں آئین میں کچھ باتیں کہی گئی ہیں۔ ان قوانین کا ذکر ریاست کے تعلیمی قانون میں بھی ہے۔بومئی حکومت نے ہفتہ کو ایک سرکلر جاری کیا جس میں اس قسم کے لباس پر پابندی عائد کی گئی ہے جس سے ریاست کے تعلیمی اداروں میں امن، ہم آہنگی اور امن و امان میں خلل پڑتا ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ منگل کو اڈپی کے گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج میں زیر تعلیم پانچ مسلم لڑکیوں کی درخواست پر سماعت کرے گی، جن کے ساتھ کالج میں حجاب پہننے پر پابندی کا سامنا ہے۔اس سے قبل کرناٹک کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے کہا تھا کہ جو لڑکیاں یونیفارم کوڈ کی پیروی نہیں کرتی ہیں وہ دوسرے آپشنز تلاش کرنے میں آزادہیں۔
ناگیش نے میسور میں نامہ نگاروں سے کہا کہ جس طرح فوج میں قوانین کی پیروی کی جاتی ہے، اسی طرح یہاں (تعلیمی اداروں میں) کی جاتی ہے، جو لوگ اس پر عمل نہیں کرنا چاہتے ان کے لیے دروازے کھلے ہیں۔
وزیر نے طلباء سے اپیل کی کہ وہ سیاسی جماعتوں کے مہرے نہ بنی بنیں۔ وہیں کالج میں داخلہ کی پابندی کا سامنا کررہی طالبات کا کہنا ہے کہ حجاب ہمارا آئینی حق ہے ،ہم اس سے دستبردار نہیں ہوسکتے ۔



