بین ریاستی خبریں

تمام اسکولوں اور کالجوں کے قریب مظاہروں پر دو ہفتوں کے لیے پابندی عائد

بنگلورو9فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب کو لے کر جاری تنازعہ نے بڑا روپ اختیار کر لیاہے۔بین الاقوامی سطح پرمذہبی آزادی پرحملہ کرنے کے خلاف آوازاٹھ رہی ہے۔ تنازعہ کے بڑھنے کی وجہ سے دارالحکومت بنگلورو میں پولیس نے تعلیمی اداروں کے قریب ہر قسم کے اجتماعات اور مظاہروں پر دو ہفتوں کے لیے پابندی لگا دی ہے۔

وزیراعلیٰ بسواراج ایس بومائی نے امن اور ہم آہنگی کی بحالی کے لیے تمام ہائی اسکول اور کالج تین دن کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ حجاب پر پابندی پر سوال اٹھاتے ہوئے اڈوپی کے سرکاری کالج کی پانچ خواتین کی جانب سے کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔

بدھ کو کرناٹک ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہوئی۔ تاہم ہائی کورٹ نے سفارش کی ہے کہ اس معاملے کی سماعت بڑی بنچ میں کی جائے۔ جسٹس ڈکشٹ کی بنچ نے یہ سفارش کی ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں متعلقہ فریقوں سے منگل کو امن برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی۔

عدالت نے کہاہے کہ معاملے کی اگلی سماعت تک، یہ عدالت طلبہ برادری اور عوام سے امن و سکون برقرار رکھنے کی درخواست کرتی ہے۔ اس عدالت کو عوام کی دانشمندی اور خوبی پر پورا بھروسہ ہے اور امید ہے کہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کیاجائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button