قومی خبریں

حجاب تنازع پر ہیما مالنی نے کہا اسکول تعلیم کیلئے ہیں، مذہبی معاملات کیلئے نہیں، یونیفارم کا احترام ہونا چاہیے

ممبئی، 9 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کرناٹک میں شروع ہوئے حجاب تنازع پر بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ ہیما مالنی نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے بدھ کو کہا کہ اسکول تعلیم کے لیے ہیں اور وہاں مذہبی معاملات کو نہیں لیا جانا چاہیے۔ ہیما مالنی نے مزید کہا کہ ہر اسکول میں یونیفارم ہوتا ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ آپ اسکول سے باہر جو چاہیں پہن سکتے ہیں۔

ساتھ ہی مرکزی اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے بھی اس تنازعہ کے بارے میں کہا کہ ڈریس کوڈ، نظم و ضبط اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی ادارے کے فیصلے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا ہندوستان کی جامع ثقافت کے خلاف ایک سازش ہے۔

ملک کے تمام اداروں اور سہولیات پر اقلیتی سماج کا مساوی حق ہے۔

اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے کے تنازعہ کے درمیان کرناٹک ہائی کورٹ میں آج دوبارہ سماعت ہوئی۔ وکلاء کے دلائل سننے کے بعد جسٹس کرشنا ڈکشٹ کی سنگل بنچ نے معاملے کو بڑی بنچ کو بھیج دیا ہے۔ اب لارجر بنچ اس معاملے کی مزید سماعت کرے گا۔ وزیراعلی بسواراج بومئی نے سبھی سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button