
لکھنؤ ، 9فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے گومتی نگر ایکسٹینشن علاقے میں پی کے جی مساج پارلر کی آڑ میں ایک سیکس ریکیٹ چلایا جا رہا تھا۔اس کی شکایت وہاں کام کرنے والی ایک نوجوان خاتون نے پولس کمشنر سے کی، جس پر کرائم برانچ اور اے سی پی گومتی نگر کی ٹیم نے جانچ کی اور کارروائی کا حکم دیا۔
ایک مشترکہ ٹیم نے پارلر پر چھاپہ مار کر چھ نوجوانوں اور آٹھ لڑکیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس نے متاثرہ لڑکی کی شکایت پر مقدمہ درج کیاہے۔ لڑکیوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اے ڈی سی پی ایسٹ قاسم عابدی کے مطابق بی بی ڈی تھانے کی حدود میں رہنے والی ایک نوجوان خاتون پی کے جی مساج پارلر میں کام کرتی ہے۔
لڑکی نے شکایت کی تھی کہ چھ ماہ قبل اسے پی کے جی مساج پارلر میں بلا کر نوکری کی پیشکش کی گئی تھی۔ جب وہ نوکری کی تلاش میں وہاں گئی تو وہاں اسے یرغمال بنا لیا گیا۔
اس کے بعد اسے گومتی نگر ویرام کھنڈ-2 میں واقع ایک مکان میں یرغمال بنا کر رکھا گیا جہاں ایک سیکس ریکیٹ چلایا جا رہا تھا۔لڑکی کسی طرح وہاں سے بچ نکلی۔ اس کے بعد پولیس کمشنر ڈی کے ٹھاکر کے دفتر پہنچ کر شکایت کی، جس پر انہوں نے کرائم برانچ اور اے سی پی گومتی نگر شویتا سریواستو کو اس ریکیٹ کا انکشاف کرنے کی ذمہ داری سونپی۔
موقع سے چھ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔گرفتار نوجوانوں میں انیل کمار، ادے پٹیل، پی کے، چھوٹو، راجکمار اور ریتک شامل ہیں،آٹھ لڑکیاں بھی گرفتار کی گئی ہیں ۔
پولیس کے مطابق مساج پارلر کے آپریٹر نے ایک آن لائن ایپ بنائی تھی جس کے ذریعے وہ گاہک کی بکنگ کرتا تھا۔ اس ایپ کے ذریعے لڑکیوں کی تصاویر بھیجی جاتی تھیں، قیمتیں بھی وہیں مقرر تھیں۔ سب کچھ طے ہونے کے بعد لڑکی کو گاہک کی بتائی ہوئی جگہ پر بھیجا تھا۔ اس کی مخالفت کرنے والی لڑکی کو دھمکایا اور مارا پیٹا گیا۔
اس کے بعد نوجوان خواتین کو چائے یا دیگر مشروبات میں ملا کر نشہ آور گولیاں پلائی جاتی تھیں۔ سیکس ریکٹ چلانے والے لڑکیوں کو گاہکوں تک لے جانے کے لیے لگژری گاڑیوں کا استعمال کرتے تھے.
گاہک کو ہدایت دی گئی تھی کہ لڑکیوں کو اکیلے واپس نہ بھیجیں۔ پی کے جی مساج پارلر میں ملک کی کئی ریاستوں سے لڑکیوں کو نوکری کے نام پر بلایا جاتا تھا۔ انہیں یرغمال بنا کر جسم فروشی کا نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق اس پارلر میں شمال مشرقی ریاستوں ممبئی، دہلی، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ سے لڑکیوں کے آنے کی اطلاع ملی ہے۔ تفصیلات کی جانچ کی جا رہی ہے۔



