قومی خبریں

  کرپٹو کرنسی پر ٹیکس، راجیہ سبھا میں وزیر خزانہ نے کہا   ٹیکس لگانا حکومت کا حق ہے،  لیکن کرپٹو کو قانونی جواز حاصل نہیں 

 نئی دہلی ، ۱۱؍فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعہ کو بجٹ 2022 پر بحث کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی پر حکومت کے موقف کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس لگانا حکومت کا حق ہے ،اور اس پر پابندی لگانے کا فیصلہ غور و فکر کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
سیتا رمن نے راجیہ سبھا میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال میں ملک میں کرپٹو کرنسی کو نہ تو قانونی شکل دیا جارہا ہے ، اور نہ ہی اس پر پابندی لگانے کا مستقبل میں کوئی ارادہ ہے ۔ اس پر پابندی لگانے کے بارے میں حتمی فیصلہ اس فیصلے پر مبنی ہوگا جوغور و خوض سے سامنے آئے گا۔
کرپٹو کرنسی سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس لگانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس پر ٹیکس لگانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ لیکن ہم نے ٹیکس اس لیے لگایا ہے کہ یہ حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
درحقیقت اپوزیشن کی طرف سے کرپٹو کرنسی پر ٹیکس لگانے کی قانونی حیثیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے یہ بات کہی۔
غور طلب ہے کہ یکم فروری کو پارلیمنٹ میں بجٹ 2022 پیش کرتے ہوئے سیتارامن نے کرپٹو کرنس سے حاصل ہونے والے منافع پر 30 فیصد ٹیکس لگانے کا اعلان کیا تھا۔
وہیں وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ صرف آر بی آئی کی طرف سے جاری کردہ ڈیجیٹل روپیہ کو ہی ملک میں ڈیجیٹل کرنسی کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
اس دوران ایک اور سوال کے جواب میں نرملا سیتا رمن نے کہا کہ اس بجٹ میں ٹیکنالوجی کو ترجیح دی گئی ہے، اس کی مثال زراعت کو بہتر اور جدید بنانے کے لیے ڈرون لانا ہے۔ا سٹارٹ اپ کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
’راہو کال‘تو کانگریس کا چل رہا ہے، ہمارا تو’امرت کال‘: سیتا رمن
 وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے  کانگریس پر سخت حملہ کیا اور دعویٰ کیا کہ اپوزیشن پارٹی جو آج بھی ’ریموٹ کنٹرول‘ ہے، دراصل’راہو کال‘ سے گزر رہی ہے۔ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کاتوامرت کال جاری ہے۔راجیہ سبھا میں عام بجٹ پر بحث کا جواب دیتے ہوئے سیتا رمن نے یہ بھی کہا کہ کانگریس میں جمہوریت نہیں ہے، کیونکہ یو پی اے حکومت کے تحت قومی پالیسیاں 10 جن پتھ (کانگریس صدر سونیا گاندھی کی سرکاری رہائش گاہ) پر بنائی جاتی تھیں۔
اعلانات 7، لوک کلیان مارگ (وزیراعظم کی رہائش گاہ) پرہوتے ہیں۔یہی نہیں انہوں نے کہا کہ یہ ملک وہ دن کبھی نہیں بھولے گا جب کانگریس کے اس وقت کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے مرکزی کابینہ کے فیصلے کی کاپی پھاڑ کر میڈیا کے سامنے پھینک دی تھی۔
دراصل بجٹ پر بحث کے دوران کانگریس کے کپل سبل نے حکومت پر طنز کیا اور کہا کہ یہ حکومت امرت کال کی بات کر رہی ہے جبکہ ملک 2014 (نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد) سے راہو کال دکھ رہاہے۔

کرپٹو کرنسی پر ٹیکس کا مطلب اسے قانونی درجہ دینا ہے: کانگریس ایم پی کا وزیر خزانہ پر الزام

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے آج راجیہ سبھا میں عام بجٹ پر بحث کا تفصیلی جواب دیا۔ اس دوران وزیر خزانہ نے کانگریس پر طنز کیا کہ ہمارا امرت کال کانگریس کا راہو کال ہے۔ اس پر کانگریس ایم پی شکتی سنگھ گوہل نے جواب دیا کہ حکومت راہل گاندھی سے ڈرگئی ہے۔ وزیر خزانہ نے بوکھلاہٹ میں راہل گاندھی پر بیان دیا ہے۔ ہم نے بجٹ پر بحث میں یہ سوال اٹھایا کہ ہندوستان میں 27 کروڑ لوگ خط افلاس سے نیچے چلے گئے ہیں۔ معاشی بحران کی وجہ سے ہم نے کسانوں، بے روزگاری اور کورونا بحران کے حوالے سے کئی سوالات رکھے تھے لیکن وزیر خزانہ نے ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔

کانگریس ایم پی نے کرپٹو کرنسی کے بارے میں حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کرپٹو کرنسی پر ٹیکس لگائیں گے تو کیا یہ قانونی نہیں ہو جائے گی؟

اگر کوئی چیز قانونی نہیں تو آپ اس پر ٹیکس کیسے لگا سکتے ہیں؟

ٹیکس لگانے کا مطلب ہے کہ آپ کرپٹو کرنسیوں کو قانونی حیثیت دے رہے ہیں۔ اگر کرپٹو سے متعلق کوئی کیس عدلیہ کے سامنے آتا ہے تو ملزم کہہ سکتا ہے کہ اس نے ٹیکس ادا کیا ہے، یہ قانونی ہے۔ آپ کے دوستوں کے پاس کالا دھن ہے، بی جے پی کے دوستوں کو کرپٹو کرنسی چاہیے ۔

غور طلب ہے کہ یو پی اے کے دور حکومت میں بڑے گھوٹالوں پر بحث کرتے ہوئے نرملا سیتا رمن نے اسے ملک کے لیے راہوکال کہا تھا، انہوں نے کہا کہ راہوکال تب تھا ایک موجودہ وزیر اعظم امریکی صدر سے ملنے والے تھے اورانہوں نے جو بل پاس کیا تھا

وہ میڈیا کے سامنے پھاڑ دیا گیا تھا۔ جسے G-23 کہتے ہیں۔ ہمارا امرت کال ان کا راہو کال ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر پارٹی چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں، یہی راہو کال ہے۔ تعجب کی بات نہیں کہ کانگریس پارٹی جو راہو کال کاسامنا کررہی ہے اسے 44 سیٹیں مل رہی ہیں اور وہ اس سے باہر نہیں نکل پا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button