بین ریاستی خبریں

دلت کانسٹیبل دولہے کو گھوڑی چڑھنے سے دبنگوں نے روکا

پولیس باراتی بن کر پورے گاؤں میں دولہے کو گھمایا

چھتر پور ، ۱۱؍فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوں تو مساوات کی بات کی جاتی رہی ہے ، لیکن اسی ملک میں اب بھی دلتوں کو اپنے دلت کا خمیازہ بھگتنا پڑتاہے ۔ اسی تناظر میں مدھیہ پردیش کے چھتر پور ضلع میں دلت پولیس دولہے کو گھوڑے پر چڑھنے پر غنڈوں کا نشانہ بننا پڑا۔

دبنگوں جو کہ اعلیٰ برادری سے تعلق رکھتے ہیں، نے گھوڑی پر بیٹھ کر اس کی باراتی باہر نہیں نکلنے دی، اور بارات کے ڈی جے کو روکنے کے بعد اسے گاؤں سے باہر کردیا ۔ جس پر اہل خانہ نے پولیس کو اطلاع دی، صبح پولیس کی سیکورٹی میں اس کی برات نکلی ۔

اطلاع کے مطابق معاملہ چھتر پور ضلع کے بھگوان تھانہ علاقہ کے کنڈالیا Kundalyapur نامی گاؤں کا ہے۔یہاں پولیس کانسٹیبل دیاچند Dayachand Ahirwar ولد بھاگی رتھی اہیروار کی شادی تھی۔ دیاچند کوتوالی میں تعینات ہیں۔ دولہا بن کر وہ گھوڑی پر بیٹھنا دبنگوں یعنی کہ اعلیٰ برادری کے لوگوں کو یہ پسند نہیں آیا۔

دبنگوں نے ایسا کرنے سے روک دیا۔معاملہ پولس کے علم میں آنے کے بعد دوسرے دن پولیس کی سکیورٹی میں دھوم دھام سے بارات نکالی گئی۔ کلکٹر سندیپ جی آر، پولیس سپرنٹنڈنٹ سچن شرما بھی موقع پر پہنچے تھے۔ اس دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

دولہا دیاچند اہیروار کا کہنا ہے کہ ہمارے گاؤں کی روایت ہے کہ چھوٹی برادری کا کوئی دولہا گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نہیں نکال سکتا۔ میں نے اس روایت کو توڑنے کا فیصلہ کیا، جب میں گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے لگا تو ایک گلی کے باہر اونچی ذات کے کچھ نوجوانوں نے ڈی جے والے کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔

دراصل بارات اس گلی سے نکل رہی تھی، جہاں اعلیٰ ذات کے لوگ رہتے ہیں۔پھر پولیس کو اس کی اطلاع دی گئی ۔ پولیس کی سیکورٹی میں اس دلت دولہے کی بارات شان سے نکلی ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button