
بھارت اقلیتوں کے تحفظ اورمفادات کاخیال رکھے۔بھارت ناراض،نقوی نے کہا،یہاں سب خوش ہیں،بدنام کرنے کی سازش نہ کی جائے
نئی دہلی 15فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے کی اجازت نہ دینے کا تنازعہ اب بین الاقوامی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مسلم ممالک کی تنظیم اسلامی تعاون نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارت کو مشورہ دیاہے۔
اسلامی تعاون تنظیم نے ٹویٹ کیاہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کا سیکرٹریٹ مطالبہ کرتا ہے کہ ہندوستان مسلم کمیونٹی کے تحفظ اور مفادات کا خیال رکھے۔ اسلام کی پیروی کرنے والوں کے طرز زندگی کی حفاظت کریں۔ اس کے علاوہ تشدد پر اکسانے والوں اور نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اسلامی تعاون تنظیم نے عالمی برادری سے اس معاملے میں مداخلت کرنے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کوششیں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اسلامی تعاون تنظیم نے ہریدوار میں منعقدہ دھرم سنسد کے دوران نفرت انگیز تقاریر کے حوالے سے بھارت کوبدنام کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔
تاہم ہندوستان نے اسلامی تعاون تنظیم کے موقف پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں تمام مذاہب کے لوگ خوشی سے رہ رہے ہیں۔ اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے کہاہے کہ بھارت کو کوئی بدنام نہیں کر سکتا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کیا پاکستان میں کوئی لڑکی جے شری رام کا نعرہ لگا سکتی ہے۔
مختار عباس نقوی نے کہا کہ اگر پاکستان میں کوئی لڑکی جئے شری رام کا نعرہ لگاتی تو اس کا سر قلم کیا جا سکتا تھا۔ اسلامی تعاون تنظیم میں کل 57 مسلم ممالک شامل ہیں جن میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب جیسے بڑے مسلم ممالک شامل ہیں۔
یہ اقوام متحدہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ اس کے اجلاس اکثر اسلامی مسائل پر ہوتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے کئی بار اس میں کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کی کوششیں کی گئیں لیکن اب تک کامیابی نہیں مل سکی۔



