احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں: 49 قصورواروں کو پھانسی کی سزا، 18 فروری کو آئے گا فیصلہ
احمد آباد ،15فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) گجرات کے احمد آباد میں 2008 کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں ایک خصوصی عدالت 18 فروری کو سزا سنائے گی۔ منگل کو عدالت نے اس کیس میں سزا سنانے سے قبل استغاثہ اور دفاعی وکلا کے دلائل کی سماعت مکمل کی۔ خاص بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں 49 لوگوں کو پہلے ہی قصوروار ٹھہرایا جا چکا ہے۔
عدالت اب صرف دونوں فریقین کے دلائل سن رہی تھی ،تاکہ ان کی سزا کی مدت کا فیصلہ کیا جا سکے۔اس معاملہ میں جہاں استغاثہ نے تمام مجرموں کیلئے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے، وہیں دفاعی وکیل نے کم سے کم سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ عدالت نے میڈیا کو سزا کی مدت پر دیئے جانے والے دلائل کی رپورٹنگ کرنے سے روک دیا ہے۔
عدالت نے منگل کو اس معاملہ میں 49 لوگوں کو مجرم قرار دیا تھا اور 28 دیگر ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ خیال رہے کہ26 جولائی 2008 کو احمد آباد 70 منٹ کے وقفے میں 21 بم دھماکوں سے لرز اٹھا۔ ان حملوں میں 50 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے،13 سال سے زیادہ پرانے کیس میں عدالت نے گزشتہ سال ستمبر میں مقدمہ کی کارروائی مکمل کی تھی۔
پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین سے وابستہ لوگوں نے یہ حملے 2002 کے گجرات فسادات کا بدلہ لینے کے لیے کیے تھے، جس میں اقلیتی برادری کے سینکڑوں لوگ شہیدکئے گئے تھے۔احمد آباد میں سلسلہ وار دھماکوں کے چند دن بعد پولیس نے سورت کے مختلف علاقوں سے کئی بم برآمد کیے تھے۔
اس کے بعد احمد آباد میں 20 اور سورت میں 15 ایف آئی آر درج کی گئیں۔جب عدالت نے تمام 35 ایف آئی آرز کو یکجا کیا، تو 78 ملزمان کے خلاف مقدمہ کی سماعت دسمبر 2009 میں شروع ہوئی۔ایک ملزم بعد میں سرکاری گواہ بن گیاتھا، بعد ازاں اس کیس میں مزید چار ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا، تاہم ان پر ٹرائل شروع ہونا باقی ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے 1100 گواہوں پر جرح کی ہے۔



