بین ریاستی خبریں

ممبر اسمبلی مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری کا الیکشن لڑنے پر تذبذب قائم

حلف نامہ میں مبینہ طور پر غلط تفصیلات دینے کا الزام

لکھنؤ،18فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جیل میں قید ممبراسمبلی مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری کے بارے میں بڑی خبر سامنے آ گئی ہے۔ عباس انصاری پر انتخابی حلف نامے میں غلط معلومات دینے کا مبینہ الزام ہے۔ نیز ان کے اسمبلی الیکشن لڑنے پر شک کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

اگر تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوئے ،تو انہیں الیکشن لڑنے سے بھی روکا جا سکتا ہے۔ دراصل عباس انصاری پر اسلحہ لائسنس سے متعلق حلف نامہ میں غلط معلومات دینے کا الزام ہے۔ ان کے حلف نامہ پر ہی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایم ایل اے مختار انصاری نے اس بار خود الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کیفیت میں عباس انصاری انتخابی میدان میں اترے ہیں، لیکن انتخابی حلف نامہ میں مبینہ طور پر غلط معلومات دینے کے الزام کے بعد ان کے الیکشن لڑنے پر خدشات مزید گہرے ہونے لگے ہیں۔عباس انصاری نے مئو صدر اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عباس انصاری نے سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (SBSP) کے امیدوار کے طور پر اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔ مختار انصاری اس سیٹ سے 5 بار ایم ایل اے منتخب ہو چکے ہیں۔ فارم داخل کرنے کے ساتھ عباس انصاری نے حلف نامہ بھی داخل کیا تھا۔ اس میں انہوں نے لائسنس یافتہ ہتھیار کے بارے میں بھی معلومات دی ہیں۔

عباس انصاری نے نئی دہلی سے اسلحہ لائسنس حاصل کیا تھا۔ انہوں نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ اس کا اسلحہ لائسنس اتر پردیش پولیس نے منسوخ کر دیا ہے،جبکہ مبینہ طورپر سچائی یہ بتائی جارہی ہے کہ عباس انصاری کا اسلحہ لائسنس دہلی پولیس نے منسوخ کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ لکھنؤ کے مہانگر تھانے میں عباس انصاری کیخلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے۔ ایس ٹی ایف معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔ بتا دیں کہ عباس انصاری نے اس سے پہلے بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر سال 2017 میں گھوسی سے اسمبلی الیکشن لڑا تھا، پھر انہیں بی جے پی کے پھاگو چوہان سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button