قومی خبریں
سی اے اے مخالف مظاہرین کیخلاف کاروائی : یوگی سرکار عدالتی حکم کے بعد گھٹنوں پر، نقصان کے معاوضے کا نوٹس لیا واپس
لکھنؤ ،18فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوپی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے CAA) کے خلاف احتجاج کرنے والوں کیخلاف شروع کی گئی تمام کارروائی اور معاوضے کے لیے جاری کیے گئے نوٹس واپس لے لیے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اب تک کی گئی تلافی مافات کی رقم واپس کرنے کا بھی حکم دیا ہے، تاہم سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کو نئے قانون کے تحت کارروائی کرنے کی آزادی دی ہے۔خیال رہے کہ یوپی میں 2019 کے سی اے اے کیخلاف احتجاج میں سرکاری اور نجی املاک کو پہنچے نقصانات کی تلافی کے لیے بھیجے گئے تمام 274 نوٹس واپس لے لئے گئے ہیں ۔
یوپی حکومت نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران ہونے والے نقصانات کے معاوضے کے لیے یہ نوٹس 13 اور 14 فروری کو واپس لے لیے گئے تھے۔سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے رقم کی واپسی کی ہدایت دی ہے۔
عرضی میں یوپی حکومت کی طرف سے جاری کردہ تلافی مافات کے نوٹس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یوپی میں سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران املاک کو پہنچے نقصان کی وجہ سے، ریاستی حکومت نے مظاہرین کو اس کے لیے معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے کہا کہ یوپی حکومت کو مظاہرین سے برآمد کی گئی کروڑوں کی رقم واپس کرنی چاہئے۔ نیز سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کو نئے قانون دی اتر پردیش ریکوری آف ڈیمیج ٹو پبلک اینڈ پرائیویٹ پراپرٹی ایکٹ کے تحت سی اے اے مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے کی آزادی دی ہے۔ یہ قانون 31 اگست 2020 کومتعارف کرایا گیا تھا۔بنچ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل گریما پرساد کے اس استدلال کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ وصول شدہ رقم کی واپسی کے بجائے مظاہرین اور ریاستی حکومت کو اس کے لیے ٹریبونل سے رجوع کرنے کو کہا جانا چاہیے۔ اس سے قبل 11 فروری کو ہونے والی سماعت میں، سپریم کورٹ نے دسمبر 2019 میں سی اے اے مخالف مظاہرین کو جاری کیے گئے ریکوری نوٹس پر یوپی حکومت کی سخت سرزنش کی تھی۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو نوٹس واپس لینے کا آخری موقع دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان نوٹسوں کو منسوخ کر سکتی ہے ۔درخواست گزار پرویز عارف نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان نوٹسز کو من مانی اور خلاف قانون قرار دے کر مسترد کیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے من مانی طور پر نوٹس بھیجے گئے۔ ایک ایسے معمرترین شخص کو بھی نوٹس بھیج دیا گیا جو چھ سال قبل 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔



