بین ریاستی خبریں

پیر طریقت الحاج الشاہ محمد ثقلین میاں (بریلی شریف) دارالثقلین فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں آیا۔ 

ممبئی: (سلام بن عثمان)گزشتہ دنوں وائی بی چوہان سینٹر، ممبئی میں دارالثقلین فاؤنڈیشن کا قیام الحاج الشاہ محمد ثقلین میاں کے زیر سرپرستی عمل میں آیا۔ جس کا مقصد اسلامی، علمی، روایتی اقدار پر طرز عمل ہے۔
الحاج الشاہ محمد ثقلین میاں حضور کے سرپرستی میں قوم کے بچوں اور بچیوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے اغراض ومقاصد میں سماجی، روحانی دروازے کھولنے کے ساتھ حقیقی علم کی روشنی کے ذریعے اللہ کی مخلوق کے درمیان ہم آہنگی ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دارالثقلین فاؤنڈیشن کے بنیاد رکھی گئی اور تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کا آغاز بدستور تلاوت کلام پاک سے ہوا اور ساتھ ہی اس کا ترجمہ بھی بتایا گیا۔ الحاج محمد نثار احمد نعت خواں نے حمد مع ذکر خفی پیش کیا۔
عبدالحفیظ ثقلینی جو فاؤنڈیشن کے نائب چیئرمین ہیں انھوں نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے بانی و سرپرست الحاج الشاہ محمد ثقلین میاں کا تعارف بہت بہترین انداز میں پیش کیا۔ اس کے بعد خانقاہ شرافتیہ کے تمام سرگرمیوں اور فلاحی و انسانیت کے پیغام کے متعلق ایک دستاویزی فلم بتائی گئی۔ دوران تقریب محمد شاہد مرزا صاحب نے پروجیکٹر اور پاور پوائنٹس سلائیڈ کے ذریعے تعلیم، علم، حکمت اور کردار کے متعلق اہمیت کو اجاگر کیا۔
اس کے بعد دارالثقلین فاؤنڈیشن کے علامتی نشان (لوگو) اور ویب سائیڈ کا افتتاح پیر طریقت الحاج الشاہ محمد ثقلین میاں کے بدست مبارک ہوا۔ اس موقع پر خانقاہ شرافتیہ کے شہزادے اور فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری الحاج محمد غازی القادری صاحب بھی موجود تھے۔ فاؤنڈیشن کے علامتی نشان (لوگو) کی مختصر میں اس کی خوبیوں کی وضاحت کی گئی۔
جیسے کتاب: علم اور حکمت کا حصول، درخت: ترقی اور پناہ گاہ، تنے کا جھکاؤ شکل: صوفی رقص اور عاجزی، پتے: روشن خیالی اور آزادی، دائرہ: عالم گیری نقطہ نظر، زیتون کی شاخ: امن اور خوشحالی۔ 
دارالثقلین فاؤنڈیشن کے صدر شاہد شخ صاحب نے اپنے صدراتی خطبہ میں مولیٰ علی ابن طالب رضہ اللہ عنہ کی عظمت اور مرتبہ کو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کتاب اللہ اور آل رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مسلم معاشرے میں ناخواندگی کے مسئلے پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی انھوں نے قرآن کریم کی پہلی وحی اقراء کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ یہ وحی علم کے حصول کو اجاگر کرتی ہے۔ اس وحی میں سائنس کے ساتھ قلم کے بارے میں بھی ذکر ہے۔
نیز انھوں نے یہ بھی بتایا کہ سائنس، مذہب سے مختلف نہیں ہے بلکہ سائنسی علم بھی وحی کا حصہ ہے۔ حافظ شاہد صاحب نے تصوف کے متعلق کہا کہ تصوف کو سمجھنے کے لیے ایک مرتبہ حضرت امام حسن، حسین اور حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ کو اجتماعی طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے ساتھ ہی انھوں نے اپنے صدراتی خطبہ میں خانقاہ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کس طرح انسانی دل سے معاشرتی برائیوں اور انا کو ختم کرتا ہے۔ آخر میں انھوں نے بہت ہی اہم بات کہی ہمیں مشکل وقت میں ہمت نہیں ہارنی چاہیے بلکہ اللہ رب العزت پر بھروسہ اور امید رکھنی چاہیے ساتھ ہی نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پیرو کار بن کر بہترین امت بننے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔
اللہ تب تک ہماری حالت نہیں بدلے گا جب تک ہم خود کو بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ تقریب کے اختتام پر پیر طریقت الحاج محمد ثقلین میاں حضور ( دارالثقلین فاؤنڈیشن کے بانی و سرپرست) نے اپنے پیغام میں علم کے حصول اور تعلیمی اداروں کے قیام کی اہمیت پر زور دیا۔
تعلیم کے ذریعے ہم معاشرے کی برائیوں کو ختم کرسکتے ہیں ساتھ ہی ایک عظیم قوم کی تعمیر میں مدد کر سکتے ہیں۔ علم انسانی صلاحیت کو کھولنے کی کلید کے ساتھ دنیاوی و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بھی ہے۔ ساتھ دعا میں پوری انسانیت کی بھلائی کے علاوہ ہمارے ملک ہندوستان میں امن و امان اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔ 
جاوید احمد ثقلینی نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ رضاکاروں کی کوششوں کے علاوہ افتتاحی تقریب میں کام کے دن بھی بھائیوں نے اپنا قیمتی وقت دیا ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ ایک کامیاب افتتاحی تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔
سلام بن عثمان،کرلا ممبئی 70

متعلقہ خبریں

Back to top button