نئی دہلی19فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)الیکشن کمیشن نے انتہائی متنازعہ بیان دینے پرتلنگانہ بی جے پی لیڈر راجہ سنگھ کے خلاف کارروائی کی ہے۔ کمیشن نے ووٹروں کو مبینہ طور پر دھمکیاں دینے کے الزام میں راجہ سنگھ پر اتر پردیش میں انتخابی مہم چلانے پر پابندی لگا دی ہے۔
وہ بھی صرف 72گھنٹے کی پابندی لگی ہے۔حالاں کہ بی جے پی کے کئی سنیئرلیڈران مذہب کے نام پرمبینہ طور پر ووٹ مانگ رہے ہیں،لیکن ابھی تک الیکشن کمیشن کی طرف سے خاموشی ہے۔
کمیشن نے تلنگانہ کے ریٹرننگ آفیسر سے بھی کہا ہے کہ وہ راجہ سنگھ کے خلاف آئی پی سی کی متعلقہ دفعات اور عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کریں۔ راجہ سنگھ کے خلاف یہ پابندی ہفتے کی شام 6 بجے سے شروع ہوگی۔
اس ہفتے راجہ سنگھ کے ویڈیو کلپ سے متعلق شکایت موصول ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے انہیں نوٹس بھیج کر ان سے جواب طلب کیا تھا۔ راجہ سنگھ کے اس ویڈیو میں مبینہ طور پر کہا گیا ہے کہ جو لوگ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں۔
یوگی آدتیہ ناتھ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یوگی جی نے ہزاروں جے سی بی اور بلڈوزر منگوائے ہیں۔ راجہ سنگھ نے کہاہے کہ تمہیں جے سی بی اور بلڈوزر کا مقصد نہیں معلوم۔ اگر آپ یوپی میں رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو یوگی-یوگی کہنا پڑے گا یا ریاست چھوڑنا پڑے گا۔ یوپی میں سات مرحلوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔
اس میں تیسرے مرحلے کی پولنگ 20 فروری کو ہونی ہے۔ انتخابات کے سات مرحلوں کے بعد ووٹوں کی گنتی 10 مارچ کو ہوگی۔راجہ سنگھ جو تلنگانہ میں بی جے پی کے فائر برانڈ لیڈر مانے جاتے ہیں، ماضی میں نفرت انگیز تقریر کے حوالے سے تنازعات میں گھرے رہے ہیں۔
اشتعال انگیز تقاریر کے معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ سال فیس بک نے ان پر پابندی عائد کر دی تھی۔ نفرت اور تشدد کو فروغ دینے والے مواد سے متعلق فیس بک کی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر راجہ سنگھ پر پابندی عائد کی گئی تھی۔



