بین ریاستی خبریں

شوہر کے انتباہ کے بعد بیوی چپکے سے عاشق کوکال کرنا ،یہ ازدواجی ظلم ہے : ہائی کورٹ

تروونت پورم،20فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شادی کے بعد افیئر کے ایک معاملہ میں کیرالہ ہائی کورٹ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے اہم فیصلہ سنا یا ہے۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے شوہر کے انتباہ کے باوجود بیوی کے عاشق کو کال کرنے معاملے میں طلاق کا حکم دے دیا۔

جسٹس کوثر ایڈپاگتھ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر بیوی شوہر کے انتباہ کے باوجود عاشق کو فون کرتی ہے تو یہ ازدواجی ظلم ہے۔دراصل ایک شوہر نے اپنی بیوی پر بے وفائی کا الزام لگاتے ہوئے عدالت سے طلاق مانگی تھی ۔

رپورٹ کے مطابق جوڑے کی شادی کے چند روز بعد ہی سال 2012 میں دونوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا، جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ کچھ دنوں بعد بیوی نے شکایت درج کرائی جس میں شوہر اور اس کے گھر والوں پر تشدد کا الزام لگایا۔

اس سے پہلے شوہر کو شک تھا کہ بیوی کا کسی دوسرے اجنبی سے چکر چل رہا ہے، جو اس کے دفتر میں کام کرتا تھا۔ شوہر نے دونوں کے درمیان فحش باتیں بھی سنی تھیں۔ اس کے بعد اس نے بیوی کو تنبیہ کرتے ہوئے کال کرنے سے منع کردیا۔

لیکن اس کے باوجود بیوی نے ایک نہ سنی اور عاشق کوکال کرتی رہی۔شوہر نے ان دونوں کو دفتر میں ملتے بھی دیکھا تھا۔ اس کے پاس دونوں کی ملاقات کے کافی ثبوت نہیں تھے لیکن اس کی بیوی دوسرے آدمی کو ایک ہی دن میں کئی بار فون کرتی تھی۔

جس کی وجہ سے شوہر بیوی کو تنبیہ کرتا تھا۔ شوہر کا کہنا تھا کہ بیوی کی وجہ سے اسے اس ذہنی تناؤ کا بھی سامنا ہے۔ وہیں اہلیہ نے واضح کیا کہ وہ دوسرے شخص کو کبھی کبھار ہی کال کرتی تھی ،لیکن کال ڈیٹیل میں حقیقت کچھ اور ہی نکلی۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ اگر بیوی شوہر کی تنبیہ کے بعد خفیہ کال کرتی ہے، تو اسے ازدواجی ظلم تصور کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button