صوبۂ بہار میں بھی حجاب فوبیا کا ظہور : باحجاب خاتون کو بینک سے پیسے نکالنے سے روک دیا گیا
بیگوسرائے ؍پٹنہ،21فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)صوبہ بہار کے بیگوسرائے ضلع میں ایک برقعہ پوش خاتون کو سرکاری بینک میں لین دین کرنے سے روک دیا گیا۔ متاثرہ خاتون نے واقعہ ریکارڈ کر کے اتوار کو سوشل میڈیا پر شیئر کردیا۔ یہ واقعہ ہفتہ کو اس وقت پیش آیا، جب خاتون بیگوسرائے کے منصور چوک برانچ کے یوکو(UCO) بینک میں رقم نکالنے گئی تھی۔
ویڈیو کے مطابق بینک کے تین سے چار ملازمین نے خاتون سے کہا کہ پہلے برقعہ اتاریں پھر اس کے بعد رقم نکلوانے کے لیے درخواست دیں۔ خاتون نے اس کی سخت مخالفت کی اور اپنے والدین کو بلایا۔ انہوں نے ملازمین سے کہا کہ وہ تحریری نوٹس دکھائیں کہ بینک کے اندر برقعہ کی اجازت نہیں ہے۔
اس کے والد ویڈیو میں پوچھتے ہیں، میں اور میری بیٹی ہر ماہ بینک آتے تھے ،لیکن پہلے کسی نے اعتراض نہیں کیا،اب وہ ایسا کیا ہوگیا کہ حجاب اتارنے کو کہا جا رہا ہے ؟ اگر ایسا کرناٹک میں نافذ کیا گیا ہے ،تو وہ بہار میں کیوں نافذ کر رہے ہیں؟
کیا ان کے پاس بینکنگ آپریشنز میں برقعہ پر پابندی کے حوالے سے کوئی تحریری نوٹس ہے؟ بینک ملازم نے انہیں واقعہ کی ریکارڈنگ بند کرنے کو بھی کہا، جس پرخاتون اور اس کے اہل خانہ نے انکار کردیا۔ اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے اسے ریٹویٹ کیا۔
وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ٹیگ کرتے ہوئے تیجسوی نے پوچھا کہ آپ اپنا عہدہ محفوظ کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے اپنا نظریہ، پالیسیاں، اخلاقی ذمہ داری اور ضمیر بی جے پی کے پاس گروی رکھ دیاہے، لیکن آپ نے ملک کے آئین کا حلف اٹھایا ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ کم از کم آئین کا احترام کریں، اوراس بینک ملازم کو گرفتار کریں۔خیال رہے کہ یوکو بینک نے اس مسئلہ پر اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک بیان دیا ہے،
بینک کے مطابق بینک شہریوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتا ہے، اور اپنے معزز صارفین کے ساتھ ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کرتا، بینک اس معاملہ پر حقائق کی تصدیق کر رہا ہے۔



