
جے پور ؍ناگور، 21فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ناگور کے ڈیڈوانہ میں گینگ ریپ متاثرہ کی موت کے معاملہ میں مسلسل دھرنا اب ختم ہو چکا ہے۔ حکومت اور متاثرہ خاندان کے درمیان مطالبات کے حوالے سے معاہدہ طے ہوگئے ہیں ۔ حکومت نے لواحقین کا پولیس سے تفتیش نہ کرانے کا مطالبہ مان لیا، اب معاملے کی تحقیقات ایس او جی (اسپیشل آپریشن گروپ) کرے گی۔
انتظامیہ نے لواحقین کو یقین دلایا ہے کہ ملزم جو بھی ہو اسے بخشا نہیں جائے گا۔ متاثرہ کو ACST ایکٹ کے تحت معاوضہ دیا جائے گا، اور میرٹ کی بنیاد پر ایک بچے کو سرکاری نوکری بھی دی جائے گی۔متاثرہ کی 13 دن مو ت و حیات کے جدوجہد کے بعد موت ہو گئی تھی، بعد از موت لواحقین کئی مطالبات کو لے کر دھرنے پر بیٹھے تھے ۔
اس دھرنے میں ایم پی کروری لال مینا سمیت بی جے پی کے کئی لیڈروں نے بھی شرکت کی۔ تین چار دن کے مظاہرے کے بعد حکومت نے متاثرہ کے اہل خانہ کے تقریباً تمام مطالبات تسلیم کرلئے ہیں۔بی جے پی ایم پی کیروری لال مینا اور ناگور کے ایم پی ہنومان بینی وال نے متاثرین کے اہل خانہ کے دھرنے میں شامل ہو کر حکومت پر کئی سنگین الزامات لگائے تھے۔
اس کے ساتھ ہی حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ وہ متاثرہ خاندان کے مطالبات کو جلد از جلد پورا کرے۔ ریاست کی اشوک گہلوت حکومت اس معاملے کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتی تھی۔
اس حوالے سے انتظامیہ کے اہلکار اہل خانہ کو سمجھانے کی بہت کوششیں کر رہے تھے۔ پیر کو تمام مطالبات پر اتفاق ہونے کے بعد متاثرہ خاندان نے دھرنا ختم کر دیا۔خیال رہے کہ ناگورضلع کے ڈیڈوانہ سب ڈویژن کے پالوٹ نامی گاؤں میں ایک شادی شدہ خاتون لاپتہ ہو گئی تھی۔
خاتون کی تلاش کے لیے اہل خانہ ہر روز تھانے کے چکر لگاتے رہے لیکن سی آئی نریندر جاکھڑ چھٹی پر چلے گئے تھے۔ اس دوران جب ایس پی رام مورتی جوشی ڈیڈوانہ تھانہ پہنچے، تو متاثرہ کے اہل خانہ نے انہیں پورے معاملہ سے آگاہ کیا۔
جس کے بعد فوراً حرکت میں آئی پولیس ٹیم نے ملزمان کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی ،تو سارا معاملہ بے نقاب ہو گیا۔ ملزمان نے پولیس کو بتایا کہ اجتماعی زیادتی کے بعد انہوں نے خاتون کو گاؤں کے باہر ایک کھائی میں پھینک دیا تھا۔
متاثرہ خاتون کھائی میں بے ہوشی کی حالت میں پائی گئی۔ چھ دن تک کھائی میں پڑے رہنے کے بعد اس کے جسم میں کیڑے پڑ گئے تھے۔ اسے تشویشناک حالت میں سوائی مان سنگھ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، یہاں سات دن کے علاج کے بعد 17 فروری کو متأثرہ فوت کرگئی۔



