ریپ کیس میں گایتری پرجاپتی کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی عرضی پر سپریم کورٹ برہم
نئی دہلی،21؍ فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے اجتماعی عصمت دری معاملے میں سابق ایس پی لیڈر گایتری پرجاپتی کی عرضی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ درخواست میں ریپ کیس میں گایتری پرجاپتی کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسی درخواست کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ہائی کورٹ ایف آئی آر کی منسوخی کے عمل کو قانونی عمل کے تحت سماعت کرسکتی ہے تو پھر سپریم کورٹ میں ایسی درخواست کیوں دائر کی گئی؟
عدالت کی سرزنش کے بعد گایتری پرجاپتی کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے عرضی واپس لینے کا مطالبہ کیا۔پرجاپتی کے وکیل نے کہا کہ اس معاملے میں ملزم کو سزا سنائی گئی ہے۔ ایسے میں اب اس عرضی کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس معاملے میں دیگر درخواستیں بھی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی اجازت دے دی۔
غور طلب ہے سماج وادی پارٹی کی حکومت میں کابینہ وزیر رہے گایتری پرساد پرجاپتی کے خلاف چل رہے چترکوٹ اجتماعی عصمت دری معاملے میں گزشتہ سال نومبر میں عدالت نے گایتری سمیت تین لوگوں کو تاعمر قید کی سزا سنائی تھی،اور ہر قصوروار پر دو دو لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
18 فروری 2017 کو سپریم کورٹ کے حکم پر گایتری پرساد پرجاپتی اور دیگر کے خلاف تھانہ گوتم پلی میں اجتماعی استحصال، جان ،مال کی دھمکی اور پاکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔



