’کوئی دودھ کا دھلا نہیں‘، سرزنش کے ساتھ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت
نئی دہلی،22؍ فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ بمقابلہ مہاراشٹر حکومت کی لڑائی میں پرمبیر سنگھ کو بڑی راحت دی ہے، لیکن عدالت نے دونوں فریقوں کی سرزنش بھی کی ہے ،عدالت نے سنگھ کے خلاف تمام کارروائیوں پر 9 مارچ تک پابندی عائد کر دی ہے۔
سپریم کورٹ اب یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا پرمبیر سنگھ کے خلاف تمام ایف آئی آر کو سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو منتقل کیا جانا چاہیے۔ اب سپریم کورٹ اس معاملے کی حتمی سماعت 9 مارچ کو کرے گی۔
عدالت نے کہا ہے کہ اس وقت تک مہاراشٹر حکومت تمام معاملات کی جانچ کرے گی۔ تاہم سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران مہاراشٹر حکومت اور پرمبیر سنگھ دونوں کی سرزنش کی۔
سماعت کے دوران جسٹس ایس کے کول نے کہاکہ ہم ایک بار پھر کہنا چاہتے ہیں کہ یہ ایک خراب صورتحال ہے۔ اس میں کوئی دودھ کا دھلا نہیں ہے۔ یہ ریاستی انتظامیہ اور پولیس کے نظام پر لوگوں کے اعتماد کو متزلزل کرنے کا رجحان ہے، یہ سب سے افسوسناک صورتحا ہے لیکن قانون کے مطابق عمل جاری رہنا چاہیے۔
مہاراشٹر حکومت کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ پرمبیر سنگھ کے خلاف تمام کیس سی بی آئی کو منتقل نہیں کیے جا سکتے اور سی بی آئی بھی صرف ایک کیس چاہتی ہے۔
اس پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ایک عدالتی افسر کی حیثیت سے میرا مشورہ ہے کہ یہ معاملہ ایک ایجنسی کو دیا جائے اور یہ ایجنسی سی بی آئی ہے۔سپریم کورٹ میں تحفظ کے مطالبے والی پرمبیر سنگھ کی عرضی پر سماعت کے آغاز پر سابق پولیس کمشنر کے وکیل نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کی ہمت دیکھئے۔
سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ سی بی آئی تحقیقات کرے گی لیکن ریاستی حکومت نے سی بی آئی کی طرف سے درج ایف آئی آر کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ میں نے ایساپہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ہماری درخواست بھی سپریم کورٹ میں درج نہیں ہو رہی۔
یہاں تک کہ سپریم کورٹ کی پابندی لگانے کے باوجود ایک معاملے میں چارج شیٹ داخل کردی گئی۔ دراصل سپریم کورٹ پرمبیر سنگھ کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے، جس میں تمام معاملات سی بی آئی کو دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مہاراشٹرا پولیس تحقیقات جاری رکھ سکتی ہے لیکن کوئی چارج شیٹ داخل نہیں کرے گی۔ عدالت نے پرمبیر سنگھ کو پولیس تفتیش میں تعاون کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ممبئی پولیس اہلکاروں نے پرمبیر سنگھ کے خلاف بدعنوانی اور وصولی کے کئی الزامات لگائے ہیں جن کی ممبئی پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔
اس سے پہلے پرمبیر سنگھ نے مہاراشٹر حکومت میں وزیر داخلہ رہے انیل دیش مکھ پر بھی وصولی کا الزام لگایا تھا جس کے بعد انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔



