کچھ لوگوں کا حافظہ تیز کیوں ہوتا ہے؟ سائنس دانوں نے راز معلوم کر لیا
کچھ لوگوں کے تیز حافظے کے سائنسی راز
انسان کا حیرت انگیز نظامِ دماغ
انسان واقعی ایک حیرت انگیز تخلیق ہے۔ اس کا جسم ایک جیسے نظاموں سے مل کر بنا ہے، مگر ہر شخص کا انداز، رنگ، اور نقش و نگار دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ یہی انفرادیت انسان کو ’’احسن التقویٰ‘‘ یا ’’احسن التخلیق‘‘ بناتی ہے۔
ہم سب کا اعصابی نظام (Nervous System) اور دماغی ساخت (Brain Structure) تقریباً یکساں ہے، مگر اس کے باوجود کچھ لوگ بلا کے ذہین اور یادداشت کے معاملے میں غیر معمولی ہوتے ہیں، جب کہ کچھ افراد کو چیزیں یاد رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
سائنس دانوں نے حافظے کا راز معلوم کر لیا
برسوں کی تحقیق کے بعد سائنس دانوں نے اس سوال کا جواب ڈھونڈ لیا ہے کہ آخر کچھ لوگوں کا حافظہ تیز اور کچھ کا کمزور کیوں ہوتا ہے۔
سائنسی جریدے "نیورون (Neuron)” میں شائع ایک حالیہ مقالے کے مطابق دماغ میں موجود نیورون (Neurons) کی ایک مخصوص قسم حافظے اور یادداشت کو کنٹرول کرتی ہے۔
نیورون کیسے کام کرتے ہیں؟
یہ نیورون دراصل دماغ کے اس حصے ہپوکیمپس (Hippocampus) میں پائے جاتے ہیں جہاں نئی یادداشتیں بنتی اور پرانی محفوظ رہتی ہیں۔
ماہرین نے ان نیورون کو Hippocampal Neuronal Tuplets کا نام دیا ہے۔ یہ یادداشتوں کو جنیاتی کوڈز کی طرح جوڑیوں کی صورت میں ترتیب وار محفوظ کرتے ہیں۔
جب انسان کو کوئی نیا واقعہ پیش آتا ہے تو دماغ ان پرانے کوڈز سے مماثلت تلاش کر کے پرانی یادداشتوں کو "ان کوڈ” (Uncode) کر دیتا ہے، یعنی انہیں دوبارہ یاد کر لیتا ہے۔
نیند اور نئی یادداشتوں کا تعلق
تحقیق کے مطابق دماغ دن بھر کی معلومات کو رات کی نیند کے دوران ترتیب دیتا ہے۔ نیند کے دوران غیر ضروری یادیں مٹ جاتی ہیں اور نئی یادداشتوں کے لیے جگہ بن جاتی ہے۔
اسی دوران Hippocampal Neuronal Tuplets نئی یادداشتوں کے لیے دماغ میں "میموری اسپیس” پیدا کرتے ہیں۔
تیز حافظہ رکھنے والے افراد کی دماغی خاصیت
کچھ لوگوں میں دماغ کا یہ حصہ زیادہ فعال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پرانی یادوں کو جلدی ری کال (Recall) کر لیتے ہیں اور نئی معلومات کو بھی تیزی سے یاد کر لیتے ہیں۔
ان کے نیورون زیادہ ہم آہنگی سے کام کرتے ہیں، جس کی بدولت وہ ماضی کے تجربات اور نئے واقعات کو بہتر طور پر جوڑ پاتے ہیں۔
سائنس کے مطابق تیز حافظہ محض مشق یا اتفاق نہیں بلکہ دماغ میں موجود نیورون کی فعالیت اور تنظیم کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ نیند کا خیال رکھتے ہیں، ذہنی دباؤ سے بچتے ہیں، اور دماغی ورزش کرتے ہیں، ان کا Hippocampus بہتر کارکردگی دکھاتا ہے، جس سے یادداشت مضبوط رہتی ہے۔



