تلنگانہ کی خبریں

یوکرین جنگ کے نام پر لوٹ

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دنیا میں کہیں بھی کوئی تباہی پیش آئے تاجروں کو قیمتیں بڑھانے کا موقع مل جاتا ہے۔ غذائی اجناس کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کررہی ہیں ایسے میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد تاجروں نے خوردنی تیل کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔
گزشتہ دو دن میں جنگ کے نام پر خوردنی تیل کی قیمت میں فی لیٹر 20 روپئے سے زائد کا اضافہ کردیا گیا۔ حیدرآباد اور وجئے واڑہ میں اس کی مثالیں سامنے آئی ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ وجئے واڑہ میں ہفتہ کی شام تک کارپوریٹ کمپنی کے مال میں پالمولین خوردنی تیل کی قیمت 128 روپئے تھی لیکن 2 گھنٹے بعد 149 روپئے کردیا گیا اور 21 روپئے کا اضافہ ہوا۔
عوام کی جانب سے اس بارے میں پوچھے جانے پر یوکرین بحران کا حوالہ دیا جارہا ہے۔ سن فلاور کی قیمت 160 روپئے جبکہ ایک اور کمپنی کے خوردنی تیل کی قیمت 170 روپئے وصول کی جارہی تھی لیکن اس میں تقریباً 10 روپئے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کارپوریٹ کمپنیوں کے مالس اور دیگر ہول سیل دکانات کی قیمتیں مختلف ہیں۔ کارپوریٹ اداروں کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ کا فائدہ ریٹیل بیوپاری اٹھارہے ہیں جس کا راست طور پر اثر عوام پر پڑ رہا ہے۔اگر کوئی شخص روزانہ 5 لیٹر پالمولین آئیل خریدتا ہے تو اسے 150 روپئے اضافی طور پر ادا کرنے پڑ رہے ہیں 

متعلقہ خبریں

Back to top button