نئی دہلی ، 2مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ہندوستانی طلباء و شہریوں کو جنگ کی وجہ سے یوکرین سے واپسی کے دوران سرحد پر مختلف قسم کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان میں سے بہت سے طلبا ٹرنوپل(Ternopil)میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
پٹنہ کے رشب مشرا میڈیکل کے تیسرے سال کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس گروپ نے 25 فروری2022 کو ٹرنوپل چھوڑا تھا اس گروپ کو رومانیہ میں داخل ہونے میں 36 گھنٹے لگ گئے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یوکرین-رومانیہ سرحد تک پہنچنے کے لیے مسلسل گھنٹے کا سفر کیا تھامگر جب سرحد پر پہنچے تو پتا چلا کہ یہ ہندوستانی طلبا کے لیے بند ہے۔
وہاں انہیں مزید تین گھنٹے انتہائی سرد موسم میں انتظار کرنا پڑا اور اس کے بعد پانچ پانچ منٹ کے وقفے پر 10 لوگوں کو یوکرین کی سرحد پار کرنے کی اجازت دی جا رہی تھی۔رشب فی الوقت رومانیہ میں ہیں، انہوں نے رومانیہ سے خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو کے دوران یہ باتیں بتائی ہیں۔
تاہم انہیں جلدی راحت نہیں ملی۔ان17گھنٹوں کے دوران تین برفانی طوفان آئے ، جس کا مقابلہ ہم سب نے بہتے آنسووں کے ساتھ کیا۔ مقامی لوگوں نے کھانا اور پانی مہیا کیا لیکن بہت سے لوگوں نے اس سے گریز کیا تاکہ ہمیں واش روم استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
انکت کنوجیا بھی تیسرے سال کے میڈیکل کے طالب علم نے جو کہانی سنائی وہ بھی اذیت ناک ہے۔ وہ چار بسوں کے قافلے میں انخلا کے ایک گروپ کا حصہ تھا جس نے انہیں صبح 2 بجے کے قریب سرحد سے تقریباً 5 کلومیٹر دور چھوڑا تھا۔
مدھیہ پردیش کے ہوشنگ آباد ضلع کے بانا پورہ سے تعلق رکھنے والے انکت نے کہا کہ ہم انتہائی سرد حالات میں سرحد پر گئے اور دیکھا کہ یوکرین اور رومانیہ کے باشندوں کو بارڈر کراسنگ میں ترجیح دی جا رہی تھی۔وہاں ایک کیفے تھا لیکن اس میں کھانا ختم ہو گیا تھا۔
پھر اکثر لوگوں نے سردی کی وجہ سے اسے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا لیکن ظاہر ہے کہ یہ سب کے لیے جگہ کافی نہیں تھی۔ بعد میں یوکرین کے رضاکاروں نے باہر پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے الاؤ روشن کیا۔دوسرے طلبا کی طرح انکت کی سب سے بڑی پریشانی اب اپنی پڑھائی کو لے کر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے 12 مارچ 2022 تک تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔
اس کے بعد وہ آن لائن کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ کرے گی۔ ہم صرف یہ امید کر سکتے ہیں کہ جنگ جلد ختم ہو جائے اور ہر کوئی اپنی زندگی روز مرہ کی طرح جینے لگے۔



