نئی دہلی2مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اگلے ہفتے ختم ہونے والے ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنا شروع ہوسکتی ہیں۔پھربھی سرکارکہتی ہے کہ تیل کی قیمت پرہماراکنٹرول نہیں ہے لیکن ابھی لگتاہے کہ الیکشن کی وجہ سے روک کر رکھا گیا ہے۔
جب کہ گیس ،ریفائن،دودھ کی قیمت بڑھادی گئی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو معمول کے مارجن کے حصول کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 9 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔
روس سے تیل کی سپلائی میں خلل پڑنے کے خدشے پر 2014 کے بعد پہلی بار بین الاقوامی خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔پیٹرولیم وزارت کے تحت پیٹرولیم پلاننگ اینڈ انالیسس سیل (پی پی اے سی) کے مطابق، یکم مارچ کو ہندوستان جو خام تیل خریدتا ہے اس کی قیمت $102 فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔
ایندھن کی یہ قیمت اگست 2014 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔پچھلے سال نومبر کے شروع میں، جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر لگام لگائی گئی تھی، خام تیل کی اوسط قیمت $81.5 فی بیرل تھی۔بروکریج کمپنی J.P. مورگن نے ایک رپورٹ میں کہاہے کہ ریاست کے اسمبلی انتخابات اگلے ہفتے تک ختم ہو جائیں گے۔ توقع ہے کہ اس کے بعد ایندھن کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر بڑھ سکتے ہیں۔
اتر پردیش میں ساتویں اور آخری مرحلے کی پولنگ 7 مارچ کو ہوگی اور اتر پردیش سمیت پانچوں ریاستوں کے ووٹوں کی گنتی 10 مارچ کو ہوگی۔خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پبلک سیکٹر کی تیل کمپنیوں انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم اور ہندوستان پیٹرولیم کو پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 5.7 روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
جے پی مورگن کے مطابق، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو عام مارکیٹنگ منافع حاصل کرنے کے لیے خوردہ قیمتوں میں 9 روپے فی لیٹر یا 10 فیصد اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ گھریلو ایندھن کی قیمتیں مسلسل 118 دنوں سے برقرار ہیں۔



