بورڈ امتحانات قریب آرہے ہیں۔ تقریباً ملک کی زیادہ تر ریاستوں میں دسویں اور بارہویں جماعتوں کے بورڈ امتحانات فروری اور مارچ کے مہینے میں ہی منعقد ہوتے ہیں۔ ویسے تو طلبہ کو یہی کہا جاتا ہے کہ امتحانات میں اچھے مارکس لانے کے لیے سال بھر محنت کرنی چاہیے ۔
جو صحیح بھی ہے لیکن اس کے باوجود کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ سال بھر جو طلبہ محنت کرتے ہیں امتحان کے دن اور پرچے کے دوران چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی بناء پر وہ اتنے مارکس حاصل نہیں کرپاتے جتنی ان سے توقع کی جاتی ہے یا پھر طلبہ خود امید رکھتے ہیں۔
امتحان میں صرف پرچہ لکھ دینا یا جسے ہم آسان زبان میں ’’پرچہ بھر کر آنا‘‘ کہتے ہیں یہ کافی نہیں ہے بلکہ امتحان سے قبل امتحان گاہ پہنچنا، دوران امتحان وقت کا خیال رکھنا اور پرچہ میں لکھتے وقت سوالوں کے مارکس کی بنیاد پر جواب کی ترتیب قائم کرنا بہت ضروری ہے۔
اچھی پیشکش، بہتر ٹائم منیجمنٹ اور پُراعتماد رویہ بھی طلبہ کے اچھے پرچوں کا ضامن اور ممتحن کی نفسیات پر مثبت اثر انداز ہونے کا سبب ہے۔ آئیے امتحان سے قبل چند باتوں کو یاد رکھیں۔
امتحان میں وقت کا صحیح استعمال
(الف) امتحان شروع ہونے سے قبل
طلبہ امتحان کے مقررہ وقت سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل امتحانی مرکز پہنچ جائیں۔ یاد رکھیں ہر طالب علم کو لازمی طور پر آدھا گھنٹہ قبل امتحان ہال میں پہنچنا ضروری ہے۔
اس تعلق سے بالخصوص لڑکوں میں لاپرواہی پائی جاتی ہے اور امتحانی مرکز پر پہنچنے کے باوجود وہ دیر سے امتحان ہال (بلاک)میں پہنچتے ہیں جس کا خمیازہ پرچہ چھوٹ جانے کی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
امتحان گاہ کے باہر سیٹنگ ارنجمنٹ کے بورڈ کو روزانہ دیکھیں اور اپنے سیٹ نمبر کے لحاظ سے بلاک نمبر معلوم کرلیں۔ بارہویں میں عموماً روزانہ اور دسویں کے کچھ پرچوں میں بلاک تبدیل ہوتے ہیں اس لیے بہتر ہے روزانہ جانچ کریں۔
میڈیم کے لحاظ سے بھی سیٹنگ ارنجمنٹ کی ترتیب پر دھیان رکھیں۔ کیونکہ الگ الگ میڈیم کے سیٹ نمبر کے طلبہ کی سیریز ایک جیسی ہوسکتی ہے(اس بات کابالخصوص بارہویں کے طلبہ دھیان رکھیں)
(ب) دوران امتحان
اپنے بلاک میں اپنے سیٹ نمبر پر بیٹھیں ، دعا ئیںپڑھ لیں ۔ جوابی پرچے پر کچھ لکھنے سے قبل اس کی اچھی طرح جانچ کرلیں کہ کہیں سے پھٹا یا سلائی ادھڑی ہوئی نہ ہو۔ جوابی پرچے کے پہلے صفحے پر مکمل کوائف درج کریں۔
جوابی پرچے پر بائیں جانب حاشیہ بنا ہوتا ہے۔ اردو جوابات کے لیے دائیں جانب حاشیہ بنا لیں۔بہ مشکل پانچ تا سات منٹ میں یہ کام مکمل ہوجائے گا۔
سوالیہ پرچے کے مطالعے کا دس منٹ وقت !
پرچہ شروع ہونے سے دس منٹ قبل آپ کو سوالیہ پرچہ تقسیم کردیا جائے گا، یہ بہت اہم وقت ہے اس وقت دیگر تمام کام چھوڑ کر انتہائی یکسوئی سے سوالیہ پرچے کا بغور مطالعہ کریں اس دوران آپ کو تحریری کام کی بالکل اجازت نہیں ہوگی۔
اس لیے مکمل یکسوئی سے پورا پرچہ بغور دیکھ لیں اور اندازہ کرلیں کے کون سے سوالات جلدی حل ہوں گے؟ کن سوالات کو پہلے اور کن سوالات کو بعد میں حل کرنا ہے؟ وغیرہ۔
جواب لکھتے وقت کن باتوں کا دھیان رکھنا ہے !
ٹھیک گیارہ بجے پرچہ لکھنا شروع کریں اور کوشش کریں کہ ترتیب وار لکھیں۔ آسان سوالات پہلے اور مشکل سوالات بعد میں بھی حل کرسکتے ہیں۔ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ایک سوال کے تمام ضمنی سوالات ایک ساتھ ہوں یعنی سوال نمبر ایک کے الف، ب، ج ایک ساتھ حل کریں۔
بھلے اس کے بعد سوال نمبر تین یا پانچ حل کریں لیکن ضمنی سوالات ایک ساتھ ہوں۔ اضافی سوالات حل کرنا ایک اچھا عمل ہے لیکن اس بات کا خیال رکھیں کہ اضافی سوالات حل کرنے کی بناء پر لازمی سوالات چھوٹ نہ جائیں۔
دوران امتحان کسی سے گفتگو کریں نہ ہی کسی سے کچھ مانگیں۔ بار کوڈ اسٹیکر، ہولو کرافٹ کو ان کی مناسب جگہ پر چسپاں کریں۔ جوابات لکھتے وقت اس سوال کو تفویض کردہ مارکس پردھیان دیں بعض اوقات ہمیں جس سوال کا جواب بہت اچھی طرح یاد ہو۔
اسے ہم زیادہ لکھتے ہیں جب کہ اگر اس پر کم مارکس ہوں تو صرف ’’ٹو دی پوائنٹ ‘‘جواب ہی لکھنا مقصود ہے اس سے آپ کا وقت اور توانائی دونوں بچے گی۔ دو مارکس کے سوال کا جواب چار یا چھ مارکس کے سوال سے مختصر ہوگا۔ غیر ضروری باتیں لکھنے سے پرہیز کریں۔
سوال نمبر یاد سے لکھیں لیکن سوال اتارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پرچہ کا وقت مکمل ہونے سے کم از کم پندرہ منٹ قبل آپ کا پرچہ مکمل ہوجانا چاہیے تاکہ آخر میں ایک بار آپ پرچے کا اعادہ اور حسب ضرورت اہم نکات کی نشاندہی کرسکیں۔ اس کا ممتحن پر اچھا اثر پڑتا ہے۔
کئی طلبہ اضافی جوابی پرچہ (سپلیمنٹ) لینے کو اچھا سمجھتے ہیں لیکن حقیقتاً یہ غیر ضروری ہے بورڈ کا فراہم کردہ جوابی پرچہ اٹھائیس تا بتیس صفحات پر مشتمل ہوتا ہے اور ایک نارمل تحریر والے طالب علم کے لیے مناسب ہے۔ لیکن ضرورت پڑنے پر اضافی جوابی پرچہ لیا جاسکتا ہے اس پر بھی سیٹ نمبر و دیگر کوائف درج کرنا اور ہولو کرافٹ چسپاں کرنا لازمی ہے۔ اس بات کا خیال رکھیں۔
دورانِ امتحان بھول جانے کاخوف:
اکثر طلبہ کو سوالیہ پرچہ پڑھنے کے بعد ایسا لگتاہے کہ جیسے وہ سب کچھ بھول گئے ہوں اور وہ گھبرا جاتے ہیں ۔ لیکن یہ عموماً ان طلبہ کے ساتھ ہوتا ہے جنھیں سب یاد ہو۔ ایسے میں بالکل گھبرائیے مت۔ پُر سکون ہو کر سوال پر توجہ دیجیے اور لکھنا شروع کیجیے ،آہستہ آہستہ آپ کی خوداعتمادی لوٹ آئے گی اور تمام باتیں آپ کے ذہن میں آجائیں گی۔
طلبہ یاد رکھیں کہ سوالیہ پرچہ ترتیب دینے والے اساتذہ مضمون کے ماہر (سبجیکٹ ایکسپرٹس )ہوتے ہیں اور پرچہ اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ جوابات لکھنے اور دیگر تمام امور کا وقت اس میں شامل ہوتا ہے۔ اس لیے مناسب ٹائم منجمنٹ سے آپ اپنا پرچہ وقت پر اور انتہائی اچھے ڈھنگ سے مکمل کرسکتے ہیں۔
پرچہ کیوں چھوٹ جاتا ہے ؟
ایسے پرچے جن میں پریکٹیکل کے بجائے زیادہ تھیوریٹیکل جوابات لکھنے ہوں ان میں عموماً طلبہ آخری لمحات میں پرچہ چھوٹ جانے کی شکایت کرتے ہیں۔ ایسا اس لیے بھی ہوتا ہے کہ وہ ابتداء میں دھیمی رفتار سے جبکہ آخر میں تیز رفتاری سے لکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
دھیان رہے کہ امتحان کے دورانیے میں اپنے لکھنے کی رفتار یکساں رکھیے نہ بہت تیز ورنہ تحریر خراب ہوگی اور نہ بہت دھیمی ورنہ پرچہ چھوٹنے کا خدشہ رہے گا۔ ساتھ ہی ساتھ سوال پر تفویض کردہ مارکس اور وقت کا دھیان رکھتے ہوئے پرچہ حل کیجیے ۔
اضافی سوالات حل تو کرسکتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ کسی ایک سوال میں جن ضمنی سوالات کے جوابات آپ کو سب سے اچھی طرح یاد ہوں انھیں ہی لکھیے۔ اضافی سوالات کو آخر میں اگر وقت بچ جائے تو لکھیے ورنہ اس کی ضرورت نہیں۔
ہال ٹکٹ (ایڈمٹ کارڈ) بہت اہم ہے ۔
ہال ٹکٹ سنبھال کر رکھیے اس کے کئی زیراکس بنا کر گھر میں اپنے والدین یا دوسرے افراد کو بتا کر رکھیے۔ اگر پرچہ کے دن کسی وجہ سے ہال ٹکٹ گم ہوجائے تو فوراً امتحانی مرکز کے ذمہ داران سے رابطہ کیجیے اور اگلے پرچے سے قبل اپنے اسکول یا جونیر کالج میں رابطہ کرکے اس کی دوسری کاپی حاصل کرلیں۔
نتائج دیکھنے کے لیے بھی آپ کو ہال ٹکٹ کی ضرورت پڑے گی اس لیے اسے سنبھال کر رکھیں۔
امتحانات کے بعد کا وقت بھی کم اہم نہیں ہے !
امتحان ختم ہونے کے بعد ہر طالب علم اپنے آپ کو ذہنی طور پر پُر سکون محسوس کرتا ہے ۔ لیکن امتحان کے ختم ہونے اور آئندہ جماعتوں یا کورسیس کے داخلہ میں کافی وقفہ ہوتا ہے۔ اس لیے طلبہ اس وقت کو ضائع نہ کریں ، بلا شبہ تفریح کرلیں ، لیکن اس وقفے کے دوران آئندہ کے کورسیس کی معلومات حاصل کیجیے۔
اگر آپ نے نیٹ یا سی ای ٹی یا کسی اور داخلہ امتحان کے فارم بھرے ہیں تو ان کی تیاری کیجیے۔ انگلش و مراٹھی اسپیکنگ ، کمپیوٹر کے کورسیس، اچھی کتابوں کا مطالعہ ، کرئیر گائیڈنس ودیگر تعلیمی پروگراموں میں شرکت کے ساتھ ساتھ اخبار کا روزانہ مطالعہ کریں ۔
آئندہ جن کالجز میں داخلے کے متمنی ہوں ان کی معلومات حاصل کریں۔ اپنے شہر میں اساتذہ و کرئیر کونسلرس سے رابط کرکے کورسیس اور کرئیر سے متعلق مشورے کریں۔



