بہار: بھاگلپور میں ایک گھر میں دھماکہ، بچے سمیت10افراد ہلاک-تفتیش بہار اے ٹی ایس کوسونپ دی گئی
پٹنہ ،04؍مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بہار کے بھاگلپور ضلع کے تاتارپور چوک میں زبردست بم دھماکہ ہوا ہے۔ بھاگلپور ضلع کے تاتارپور تھانہ علاقہ کے تحت واقع کج بلی چک کے ایک گھر میں ہونے والے دھماکے نے پولیس ہیڈ کوارٹر کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔اس دھماکے میں 10 افراد کی موت ہو گئی ہے جب کہ 12 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
یہ خوفناک دھماکہ پٹاخے کے ایک تاجر کے گھر کے اندر ہوا۔ دھماکے سے آس پاس کے کئی مکانات تباہ ہو گئے۔ کئی تھانوں کی پولیس موقع پر موجود پہنچی ۔
دھماکا کافی زوردار تھا کہ دھماکے کی گونج چار کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ دھماکے سے پڑوس کے گھر کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کر سڑک پر گر گئے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سبرت کمار سین نے کہاکہ اس واقعہ کی وجہ سے 2-3 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ پہلی نظر میں یہ پتہ چلا ہے کہ پورا خاندان پٹاخے بناتا تھا، تحقیقات جاری ہے۔
معلومات کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی رات 11.30 بجے پٹاخہ بنانے والے کے گھر میں پیش آیا۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ دو منزلہ مکان تباہ ہو گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جس گھر میں دھماکہ ہوا ہے اس میں پہلے بھی 2003، 2008 اور 2018 میں بھی دھماکہ ہو چکا ہے۔
2008 کے دھماکوں میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مکان کے مالک کا نام نوین ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بہار کے بھاگلپور میں دھماکے سے جانی نقصان کی خبر تکلیف دہ ہے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ اس واقعہ سے متعلق حالات پر سی ایم نتیش کمار سے بات چیت بھی ہوئی۔ انتظامیہ راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہے، متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے۔
بھاگلپور دھماکہ کی تفتیش بہار اے ٹی ایس کوسونپ دی گئی
پولیس ہیڈ کوارٹر نے بھاگلپور کے ایس ایس پی سے کہا ہے کہ وہ دھماکے کی ہر زاویے سے مکمل تحقیقات کریں اور جلد تفصیلی رپورٹ دیں۔ اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر سنجے سنگھ کے مطابق فوری طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ دھماکہ پٹاخہ بنانے والی فیکٹری میں ہوا، لیکن جس طرح کا دھماکہ ہوا ہے اس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے ۔فی الحال بھاگلپور پولیس اور ایف ایس ایل کی ٹیم اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔
اگر ضرورت پڑی تو اے ٹی ایس بھی تحقیقات کرے گی۔ اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر سنجے سنگھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھاگلپور اور اس سے ملحقہ اضلاع میں حالیہ دنوں میں ہونے والے بم دھماکوں کا سلسلہ تشویش کا باعث ہے۔قابل ذکر ہے کہ کچھ دن پہلے بھی بھاگلپور میں دھماکے کے واقعات ہوئے تھے، اس وقت بھی اے ٹی ایس کو جانچ کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
اس واقعہ کی جانچ اے ٹی ایس بھی کرے گی۔ اگر مقامی تھانے کی سطح پر کوئی گڑبڑ ہوئی ہے تو اس کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔اس حادثے کے بعد بحث کا بازار گرم ہے۔ بھاگلپور سے پٹنہ پولس ہیڈ کوارٹر تک کے افسران کا دعویٰ ہے کہ یہ حادثہ پٹاخے بنانے کے دوران پیش آیا۔ لیکن جائے وقوعہ کے حالات کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔ زخمیوں سے بات چیت میں بھی پٹاخوں کا معاملہ واضح نہیں ہے۔
دوسری جانب مقامی ذرائع بتا رہے ہیں کہ لیلاوتی کے جس گھر میں یہ دھماکہ ہوا ہے، اس کے گھر میں ہر وقت دھماکہ خیز مواد کی 8 سے 10 بوریاں رکھی ہوئی تھیں۔ جبکہ پچھلے 21 سالوں سے اس کے پاس پٹاخے بنانے کا کوئی لائسنس نہیں ہے۔



