
نئی دہلی6مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا آج گیارہواں دن ہے۔ اس جنگ کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان اب تک مذاکرات کے دودور ہو چکے ہیں۔ روس کے حملے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے ملک چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد پوری دنیا تباہی کا منظر دیکھ رہی ہے اور صدر ولادیمیر پیوپوتن کا جارحانہ رویہ دیکھ کر سب کو خدشہ ہے کہ کہیں یہ عالمی جنگ کی شکل نہ اختیار کر لے۔ روس کا قریبی دوست ہونے کی وجہ سے دنیا کی نظریں بھی ہندوستان کے کردار پر لگی ہوئی ہیں۔سابق وزیر خارجہ یشونت سنہانے اس معاملے پر کہا کہ سب کی فکر یہ ہے کہ یہ عالمی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے اور عالمی جنگ کا مطلب ایٹمی جنگ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو مزید کتنے لوگ مارے جائیں گے اس کی کوئی گنتی نہیں ہوگی۔انھوں نے کہاہے کہ آپریشن گنگااس وقت شروع کیا گیا۔
جب گنگا کا پانی سرسے اوپرہونے لگا۔انھوں نے مودی حکومت کی تاخیراورسستی پرنشانہ لگایاہے۔انھوں نے کہاہے کہ مغربی ممالک خصوصاً یورپ میں اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک نہیں چاہتے کہ تنازعہ اتنابڑھے کہ ان کی فوج کو اس میں حصہ لینا پڑے۔
نیٹونے صحیح راستہ اختیار کیا ہے۔ وہ تنازعہ کو بڑھانا نہیں چاہتا۔ لیکن اس کا ایک اور رخ بھی ہے۔ یعنی ایک بہت طاقتور ملک اور اس کی فوج ایک چھوٹے سے ملک پر حملہ کر کے اس کی آزادی کو چیلنج کر رہی ہے۔ یہ تمام بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ ایسے میں اگر کوئی زیادہ طاقتور ملک کسی کم طاقتور ملک کے سامنے جھک جائے اور اسے ماننے پر مجبور کرے تو وہ جنگل راج بن جائے گا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جو بھی بین الاقوامی نظام تشکیل دیا گیا ہے وہ ختم ہو جائے گا۔



