
نئی دہلی، 6مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پیٹرول، ڈیزل اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب عام آدمی کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگنے والا ہے۔ حکومت جی ایس ٹی کے سب سے کم سلیب پر ٹیکس کی شرح بڑھا سکتی ہے۔ اس کا اثر براہ راست عام آدمی پر پڑے گا۔
دراصل جی ایس ٹی کونسل کی اگلی میٹنگ میں سب سے کم ٹیکس سلیب کو 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کیا جا سکتا ہے۔ اس سے جی ایس ٹی سسٹم میں چھوٹ کی فہرست کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ریاستی وزرائے خزانہ کی ایک کمیٹی اس ماہ کے آخر تک جی ایس ٹی کونسل کو اپنی رپورٹ پیش کر سکتی ہے۔
اس میں حکومت کی آمدنی بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کی کم ترین شرح کو 5 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کرنے سے حکومت کو 1.50 لاکھ کروڑ روپے کا اضافی سالانہ ریونیو مل سکتا ہے۔ ایک فیصد کے اضافہ سے سالانہ 50,000 کروڑ روپے کی آمدنی ہو سکتی ہے۔
اس سلیب میں بنیادی طور پر پیک شدہ کھانے کی اشیاء شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزرائے خزانہ کی کمیٹی آئندہ اجلاس میں تین درجے جی ایس ٹی ڈھانچے پر بھی غور کر سکتی ہے۔



