سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

نشہ خوری کا بڑھتا رجحان اسباب اور علاج

نشہ خوری کا بڑھتا رجحان:نشہ ایک زہر ہے، ناسور ہے، انتہائی گھنائونا مرض ہے،ایک عذاب ہے، ذلت ہے،جہنم میں جانے کا ذریعہ ہے۔کسی بھی قوم کی ترقی و عروج میں نوجوان ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی لیے نوجوانوں کو قوم کی ریڑھ کی ہڈی سے متشابہت دی گئی ہے اگر انہیں بر ی لت باالخصوص نشے کی عادت میں مبتلا کر دیں تو ایسی قوم کبھی ابھر نہیں سکتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کے جان بوجھ کر ہمارے نوجوانوں کو نشے کی لت میں ملوث کیا جا رہا ہے تاکہ یہ اتنے کمزور ہو جائے کے اپنے جائز حقوق بھی نہ مانگ سکے ۔

آج ہمار ے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ نشے کی لت میں گرفتار ہوتا جا رہا ہے۔ہماری نوجوانان نسل کو خصوصی طور پر برباد کرنے کی کوششیں بڑے پیمانے پر کی جار ہی ہے۔ اب اس بلا میں، اس لت میں بڑی تعداد میں چھوٹی عمر کے لوگ بھی ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔سب ہی جانتے ہیں کہ نشے میں انسان حیوان بن جاتا ہے۔

نشے کے بعد والدین ،بہن میں کوئی تقریق نہیں کر پاتا ان کے ساتھ وہ کام بھی کرجاتا ہے جس سے انسانیت شرما جاتی ہے۔ شراب کی بنیاد پر کیسی کیسی برائیاں معاشرے میں جنم لے رہی ہے۔

اس کی کیا وجہ ہے؟کیوں ہمارے ہی علاقوں میں منشیات کے کاروبار کو فروغ دیا جا رہا ہے؟ کیوں ہماری نسل نو اس وباء مبتلا ہوتی جا رہی ہے؟منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف ہماری قوم میں بلکہ پورے سماج میں کس قدر خوف ناک اور گھنائونی صورت حال پیدا ہوتی جا رہی ہے۔

نشے کی یہ لت ہمارے خانگی حالات پر کس طرح براہ راست اثر انداز ہوتی جا رہی ہے، مرد وزن کا آزادنہ اختلاط، کالجوں یونیورسٹیوں کی مخلوط تعلیم،کمپنیوں ،آفسوں میں لڑکے لڑکیوں کی ایک ساتھ مشقیں،ہنسی مذاق سے چھیڑ خانی، عصمت ریزی کو بڑھاوا مل رہا ہے۔

اخلاقی رشتوں میں کمزوری آرہی ہے۔انسان کی گھریلو زندگی پوری طرح متاثر ہو رہی ہے۔بیوی پر تشدد، بچوں کی بے جا سرزنش،پڑوسیوں سے گالی گلوج،طلاق کی شرحوں میں اضافہ،قتل و غارت گیری،نابالغ بچوں ،بچیوں پر دست درازی،والدین پر طعن و تشیع،پاکیزہ رشتوں کی پامالی،خانگی مسائل سے عدم توجہی،معاشی حالات ابتری ان سب کی بڑی وجہ منشیات کی لت ہے۔

نشے کے نقصانات:

نشہ آور اشیاء کے استعمال سے ذاتی نقصان یہ کہ جسم اور عقل پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔صحت ،اعصاب،عقل وفکر ،مختلف اعضا ،نظام ِ انہضام وغیرہ کو خراب اور ہلا کر رکھ دیتی ہے۔سارے بدن کو توڑ دیتی ہے۔

آدمی کے وقار اور انسانی عزت و حرمت کو خاک میں ملا دیتی ہے ۔نشے کا عادی مذاق کا نشانہ اور مختلف قسم کے امراض کا شکار ہو کر رہ جا تاہے۔خاندانی نقصان یہ ہوتا ہے کہ والدین ،بیوی،اولاد کو مختلف قسم کی خرابیاں اور ضرر لاحق ہوتے ہیں۔گھر جہنم بن جاتا ہے۔

گھریلو اخراجات میں کوتاہی جیسے معاملات پیدا ہوتے ہیں۔نشہ آور اشیا کے استعمال سے ایسی اولاد پیدا ہوتی ہے جو اپاہج اور عقلی طور پر ناقص رہ جاتی ہے۔نشہ لانے والی اشیا تباہ و برباد کرکے رکھ دیتی ہے۔نشے کی لت سے نوجوانان نسل کو دور کرنا ہماری دینی،سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

نشہ کیا ہے؟

منشیات سے مراد وہ تمام چیزیں اور دوائیں جو نشہ پیدا کرتی ہے ۔جن میں شراب، ہیروئین، افیون، چرس، گانجا، بھانگ، وہسکی،بٹن،آیو ڈیکس،وائٹنر ،کوریکس ،ایم ڈی وغیرہ۔اسی طرح نشہ آور انجکشن بھی مارکیٹ میں دستیاب ہے جسے نشہ نہیں،کیف و سرور کا نام دیا گیا ہے،یہ بھی منشیات کے زمرے میں آتا ہے۔ اس سے ہمیں خو د بھی اور ہماری قوم کے لوگوں کو بچانا بہت ضروری ہے۔

نشے کے اسباب

بڑے بزرگوں کی عدم روک ٹوک اور پولیس انتظامیہ کی نا صرف لاپرواہی بلکہ ایسی برائیوں میں ملوث نوجوانوں کو حوصلہ افزائیوں نے ان بچوں کو اتنا نڈر اور بے فکر بنا دیا ہے کہ کھلے عام ہوٹلوں پر بڑے بزرگوں کی موجودگی میں لمبے کش لینے میں انہیں کوئی شرم و حیا محسوس نہیں ہوتی۔

احساس کم تری بھی اس کی وجہ ہے۔جو شخص اپنی معاشی،سماجی،سیاسی حیثیت سے غیر مطمئن رہتا ہے ۔نتیجے میں نشیلی دوائیں استعمال کرتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کا عادی بن جا تا ہے۔

گھریلو ناچاقی،والدین کا مستقل ایک دوسرے سے جھگڑااولاد کے لیے زہر قاتل ہوتا ہے۔محبت کے ترسے ہوئے یہ بچے منشیات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ امتحان میں فیل ہو جانے کا خوف ،بے روزگاری کی وجہ سے بھی لوگ ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں ایک اچھی ملازمت کا لالچ دے کر منشیات کے دھندے میں ملوث کر دیتے ہیں اور ان کی زندگی تباہ کر دیتے ہیں۔

کچھ لوگ ایسے نیم حکیم اورڈاکٹر کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور ایسی ادویات جو نشیلی ہوتی ہے استعمال کر لیتے ہیں۔اس طرح وہ نشے کے عادی بن جاتے ہیں۔

منشیات کے عام ہونے کا ایک اہم سبب دوا ساز کمپنیوں کا ادویات میں منشیات کو شامل کرنا اور ڈاکٹروں کا وہ منشیات آمیز دوائیں تجویز کرنا اور ان کا عادی بنا دینا بھی ہے۔

کیا نشے میں انسان سارا غم بھول جاتا ہے؟

بعض مغربیت زدہ افراد یہ بھی بہانہ پیش کرتے ہیں یہ انسانی غموں اور ڈپریشن سے نجات کا ذریعہ ہے۔انسان اپنا سارا غم بھول جاتا ہے۔یہ محض خام خیالی ہے۔دین سے دوری بھی بہت اہم سبب ہے۔

جب کہیں اور جہاں کہیں دین سے دوری اختیار کی گئی وہ قوم اس خلاء کو پر کرنے کے لیے کسی اور راستے پر دل پڑی۔مذہب اسلام ایک دین فطرت ہے۔ہر ایک چیز کا وقت متعین ہے،

عبادت کا ،سونے کا کھانے کا ،پینے کا،اگر ہم صحیح اور سچے طور پر مسلمان ہو جائیں تو منشیات سے بالکل دور رہے سکتے ہیں۔لیکن افسوس ہوتاہے ۔مسلم نوجوانوں کاایک بڑا طبقہ رات میں ہوٹلوں ،ڈھابوں کو آباد کرتا ہے۔

رات بھر بیڑی،سگریٹ،گٹکھا،ایک دوسرے کی غیبت ،چغل خوری کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔فجر کی اذان ہوتی ہے توگھرپر سونے کے لیے چلا جاتا ہے۔جو وقت رزق کے تقسیم کا ہوتا ہے اس وقت ہم سوتے رہتے ہیں۔

اگر ہم فطرت کے اصول کے خلاف کام کریں تو کیسے ترقی کر سکتے ہیں؟پھر یہی نوجوان قسمت سے شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔اور پھر نشے کی طرف راغب ہونا شروع کر دیتے ہیں۔

علاج:

اسلام نے ہر قسم کے نشے کو حرام قراردیا گیا ہے ۔رسول ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص شراب کی ایک بوند پیے، چالیس روز تک اس کو کوئی نماز قبول نہیں ہوتی اور جو مر جائے اور اس کے پیٹ میں شراب کا ایک بھی ذرہ موجود ہو تو اس پر جنت حرام کر دی جائے گی اور جو شراب پینے سے چالیس دن کے اندر مر جائے گا وہ زمانہ کفر کی موت مرے گا۔اسے ام الخبائث قرار دیا گیا ہے۔

یہ تمام بے حیائیوں کی ماں ہے۔اس سے برائیاں جنم لیتی ہیں،انار کی پھیلتی ہے،بد اخلاقی میں اضافہ ہوتاہے۔ اس کو دور کرنا سماج کے ایک ایک فرد کے ساتھ ہی معاشرے کے تمام لوگوں کی دینی ،اخلاقی، سماجی ذمہ داری ہے۔ہم اجتمائی طور پر سوشل ورکرز،پولس کے منشیات مخالف دستے کی مدد لے کر منشیات مخالف مہم اور جلوس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

اگر کوئی ایسا فرد یا طلبہ دوران اسکول اگر نظر آتا ہے تووالدین و سرپرست کے ساتھ ساتھ قوم کے دیگر طبقوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ ان طلبہ سے پوچھ تاچھ کر کے انہیں متعلقہ اسکولوں میں پہنچا دیں۔ نشے میں ملوث لوگوں کی کونسلنگ کریں۔

اس کی شروعات ہمیں اپنے محلے سے بینرس پوسٹرس لگا کر کریں۔ریہیبیلیٹیشن سینٹر میں جاکر ایسے نوجوانوں کی رہنمائی کریں جن کے نشے کی لت سے ان کے گھر والوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔گھروں میں بہنوں کے رشتے ٹوٹ گئے ہیں۔سماج نشہ خوروں سے نالاں ہے۔

نکٹر ناٹک کر کے بچوں کو نشے سے دور کرنے کی کوشش کریں۔اسٹیج پروگراموں کے ذریعے منشیات کی لعنتوں کو اجاگر کریں۔مشاورتی مجلسوں میںشرکت کریں۔ اس شعبے میں مسلسل کام کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

اس کام کے لیے تمام لوگوں کو باالخصوص نوجوانوں کے آگے آنا ہے اور نشے کو بھگانا ہے۔سماج کے ہر ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اگر کوئی بھی برا کام دیکھے تو اسے روکنے کی کوشش کرے۔

اپنے گھر،خاندان، سوسائٹی،معاشرے،محلے ،اپنے علاقوں کی گلیوں،نکڑوں پر اپنی نظرویں سخت کردیں۔ہمارا پنا بیٹا،بیٹی،بھائی،بہن،بیوی،رشتے دار ،کرایہ دار،محلے دارکوئی بھی ایسا شخص جس کے بارے میں نشے کا شبہ ہو تو اس کو ہلکے میں نہ لیں۔اسے اچھے سے سمجھائیں۔

نشہ ایک زہر ہے۔ایک ناسور ہے۔ایک انتہائی گھنائونا مرض ہے۔ایک عذاب ہے۔ایک ذلت ہے۔آئیے آج ہم اس مہم کے ذریعے اس تقریب کے ذریعے منشیات کے لعنت سے اپنے معاشرے کو پاک کریں۔ہمارے نوجوانوں کو بیدار کریں۔ہم کوشش کریں گے انشاء اللہ کامیابی ضرور ہمارے قدم چومے گی۔

(مومن فیاض احمد غلام مصطفی ایجوکیشنل و کرئیر کونسلر صمدیہ ہائی اسکول و جونیر کالج بھیونڈی)

متعلقہ خبریں

Back to top button