پوتن سے یوکرین کے صدر کے ساتھ براہ راست بات چیت پر زور
نئی دہلی7مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بات کی اور ان پر زور دیاہے کہ وہ روسی اوریوکرائنی وفودکے درمیان جاری بات چیت کے علاوہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے براہ راست بات چیت کریں۔
وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او)کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق مودی نے کہا ہے کہ اس موضوع پر جاری امن کوششوں کو بڑی مدد مل سکتی ہے اگر پوتن ان کے مشورے پر عمل کریں۔سرکاری ذرائع نے بتایاہے کہ مودی اور پوتن کے درمیان فون پر بات چیت تقریباً 50 منٹ تک جاری رہی۔
پی ایم اونے کہاہے کہ دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور اس دوران پوتن نے یوکرائن اور روسی وفود کے درمیان جاری بات چیت کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیاہے۔اس میں کہا گیاہے کہ مودی نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری بات چیت کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے دونوں ممالک تنازعہ کے خاتمے کی طرف لے جائیں گے۔
پیوتن اورمودی کے درمیان یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس نے شہریوں کے انخلاء کے لیے پیر کی صبح سے جنگ بندی کے ساتھ ساتھ کئی خطوں میں انسانی ہمدردی کی راہداری کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
شمالی، جنوبی اور وسطی یوکرین کے شہروں میں مسلسل روسی گولہ باری کے درمیان ہزاروں یوکرینی اور دوسرے ممالک کے شہری محفوظ طریقے سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت بھی طلبا سمیت اپنے شہریوں کو نکالنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
پی ایم اونے کہاہے کہ وزیر اعظم مودی نے روسی صدر کو یوکرین کے سومی میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کی حفاظت کے بارے میں اپنی گہری تشویش سے آگاہ کیاہے۔انہوں نے جنگ بندی کے اعلان اور سومی سمیت یوکرین کے کچھ دوسرے شہروں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری کھولنے کی تعریف کی اور سومی سے ہندوستانی شہریوں کے محفوظ انخلاء کی اہمیت پر زور دیاہے۔
پی ایم اونے کہاہے کہ صدرپوتن نے وزیر اعظم مودی کو ہندوستانی طلباء سمیت شہریوں کے محفوظ انخلاء کے لیے انسانی بنیادوں پر راہداری کھولنے کے اقدامات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔
ذرائع نے بتایاہے کہ صدر پوتن نے وزیر اعظم مودی کو یقین دلایا کہ وہ ہندوستانیوں کو بچانے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔روس اوریوکرین کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد مودی اورپوتن کے درمیان یہ تیسری بات چیت تھی۔ ہندوستان روس اوریوکرین کے سرکردہ رہنماؤں پر زور دیتارہا ہے کہ وہ جنگ کو فوری طور پر ختم کریں اور اختلافات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کریں۔
روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس نے اقوام متحدہ، یورپی تنظیم برائے دفاع اور تعاون (OSCE) اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کو کیف، ماریوپول،خارکیف اور سومی میں انسانی ہمدردی کی راہداری کھولنے کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔
پوتن کے ساتھ بات چیت کرنے سے پہلے، وزیر اعظم مودی نے زیلنسکی سے بھی تقریباً 35 منٹ تک بات کی اور ان پر زور دیا کہ وہ جنگ زدہ ملک کے شمال مشرقی شہر سومی میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء کو بچانے میں مدد کریں۔روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے تقریباً 700 ہندوستانی طلبااب بھی سومی میں پھنسے ہوئے ہیں۔



