اعلیٰ اور پروفیشنل تعلیم کے حصول میں ایک بہت اہم بات جو طلبہ اور والدین و سرپرست کو یاد رکھنی چاہیے وہ ’’اداروں کا انتخاب‘‘ ہے۔ انٹرمیڈیٹ یا بارہویں جماعت کے بعد کئی اہم پروفیشنل کورسیس ہیں جن کے لیے ملک کے طول و عرض میں تعلیم اداروں کا ایک جال سا بچھا ہے لیکن گذشہ برسوں کے تجزیے میں ایک بات سامنے آئی ہے کہ صرف کسی تعلیمی ادارے سے ڈگری حاصل کرلینا اور ڈگری کے ساتھ درکار صلاحیت اور قابلیت کا حامل ہونا الگ چیزیں ہیں۔
بالخصوص انجینئرنگ ، انتظامیہ (منیجمنٹ) ، قانون وغیرہ ایسے کورسیس ہیں جن کے لیے ریاستی اور علاقائی سطح پر تعلیمی اداروں کا جال بچھا ہوا ہے اور ان میں سے بیشتر تعلیمی ادارے مختلف سہولیات ، مراعات کا دعویٰ بھی کرتے ہیں لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ مثال کے طور پر شعبہ انجینئرنگ میں گذشتہ کئی برسوں سے ہزاروں نشستیں پُر نہیں ہورہی ہیں،
انتظامیہ کے شعبے میں بھی تقریباً یہی حال ہے ، بعض ادارے ریگولر بی اے اور بی کام میں داخلہ لینے کے متمنی کم مارکس حاصل کرنے والے طلبہ کو دانستہ بی ایم ایس (بیچلر ان منیجمنٹ اسٹڈیز) میں داخلہ لینے پر مجبور کرتے ہیں اور آئندہ ان طلبہ کا کیا حال ہوتا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔
شعبہ قانون کو اس لحاظ سے استثنیٰ حاصل ہے کہ عموماً ایل ایل بی (بارہویں یا گریجویشن کے بعد) میں داخلہ کے متمنی طلبہ پہلے سے ذہنی طور پر اس شعبہ کے لیے تیار ہوتے ہیں اس لیے ابھی ان اداروں میں یہ صورتحال نہیں ہے لیکن اس شعبہ میں بھی اس بات کا دھیان رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ وکالت جیسے اہم پروفیشن کی تعلیم ایسے اداروں سے حاصل کی جائے کہ ڈگری کے ساتھ ساتھ قابلیت اور صلاحیت میں بھی اضافہ ہو۔
قانون کی تعلیم کے حصول کے لیے ہمارے ملک میں ریاستی یونیورسٹیزکے ملحقہ کالجیز، ڈیمڈ یا پرائیویٹ یونیورسٹیز کے ذریعے یا پھر نیشنل لاء یونیورسٹیز سے بارہویں کے بعد پانچ برسوں پر مشتمل انٹیگریٹیڈ ایل ایل بی کیا جاسکتا ہے۔
نیشنل لاء یونیورسٹیز کا اشتراک (Consortium)
ہمارے ملک کی جملہ نیشنل لاء یونیورسٹیز میں سے بائیس (نیشنل لاء یونیورسٹی -دہلی کو چھوڑ کر) یونیورسٹیز کا اشتراک ہے جو بارہویں کے بعد پانچ سالہ انٹیگریٹیڈ ایل ایل بی کورس کے لیے اپنا ایک مشترکہ اہلیتی امتحان جسے کامن لاء ایڈمیشن ٹیسٹ (CLAT) کہا جاتا ہے، منعقد کرتی ہیں۔
جبکہ نیشنل لاء یونیورسٹی -دہلی اپنا علاحدہ اہلیتی امتحان منعقد کرتی ہے جسے ’’آل انڈیا لاء انٹرنس ٹیسٹ(AILET)‘‘ کہتے ہیں۔ ان یونیورسٹیز کے اشتراک کو Consortium of National Law Universities کہتے ہیں۔
اس میں بنگالورو، نلسارحیدرآباد، بھوپال، کولکتہ، جودھپور، رائے پور، گاندھی نگر، لکھنؤ، پنجاب، پٹنہ، کوچی ، اوڈیشہ، رانچی، آسام، وشاکھا پٹنم، تری چراپلی، ممبئی، ناگپور، اورنگ آباد،شملہ ، جبلپور، ہریانہ میں واقع نیشنل لاء یونیورسٹیز شامل ہیں۔
کامن لاء ایڈمشن ٹیسٹ ۲۰۲۲ء :مذکورہ بالا قومی سطح کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرنے کا ذریعہ ان کا مشترکہ اہلیتی امتحان ’’کامن لاء ایڈمشن ٹیسٹ(CLAT 2022)‘‘ ہے۔ امسال کے لیے انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ داخلوں کے لیے اہلیتی امتحان کے فارم بھرنے کا آغاز یکم جنوری۲۰۲۲ء سے ہوچکا ہے۔
امسال کی خاص بات یہ ہے کہ ۲۰۲۲ء کے لیے یہ اہلیتی امتحان ۸ مئی ۲۰۲۲ء کو منعقد ہوگا جبکہ ۲۰۲۳ء کا اہلیتی امتحان دسمبر ۲۰۲۲ء میں منعقد ہوگا۔ اس طرح اس کیلنڈر ائیر میں CLAT کے دو اہلیتی امتحانات ہوں گے۔ مئی ۲۰۲۲ء میں ہونے والے امتحان کا شیڈول درج ذیل ہے۔
CLAT 2022 کا شیڈول :درخواست کی ابتدائی و آخری تاریخ،یکم جنوری ۲۰۲۲ء تا ۳۱؍مارچ ۲۰۲۲ء اہلیتی امتحان CLAT کی تاریخ ۸ مئی ۲۰۲۲ءدرخواست اور فیس بھرنے کا طریقہ کارصرف آن لائن فیس (جنرل، اوبی سی، معذور، این آر آئی کے لیے)4000 روپئےفیس (ایس ٹی، ایس سی ، بی پی ایل امیدواروں کے لیے )3500روپئے ویب سائٹ .consortiumofnlus.ac.in درکارتعلیمی اہلیت (Eligibility)کلیٹ۲۰۲۲ء میں شرکت کے لیے امیدوار کی عمر کی کوئی حد نہیں ہے۔
بارہویں یا اس کے مساوی امتحان میں جنرل،اوبی سی، معذور، این آر آئی امیدواروں کا 45% جبکہ ایس سی ، ایس ٹی امیدواروں کا 40% مارکس ہونا لازمی ہے۔ بارہویں میں زیر تعلیم طلبہ بھی درخواست دے سکتے ہیں لیکن داخلہ کے وقت ان کا نتیجہ درکار اہلیت کے مطابق ہونا چاہیے۔
اہلیتی امتحان – مارکس ، دورانیہ اور منفی مارکنگ:اہلیتی امتحان کا پرچہ دو گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل ہوگا جس میں کل 150سوالات ہوں گے ہر سوال کثیر متبادل جوابات (Multiple Choice Question)پر مبنی ہوگا۔ ایک چوتھائی (0.25) منفی مارکنگ ہوگی یعنی چار غلط جوابات پر ایک نمبرنفی کیا جائے گا۔
اہلیتی امتحان کی تیاری :یہ اہلیتی امتحان قومی سطح کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیز میں داخلہ کا پروانہ ہے اس لیے اس امتحان کی تیاری اور اچھے نمبرات حاصل کرناپیش نظر ہونا چاہیے۔
اس کی تیاری کے لیے کنثورٹیم کی جانب سے امیدواروں کو پرچہ کی رہنمائی، نمونہ کا پرچہ ، آن لائن مشق کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ امیدوار فارم مکمل بھرنے کے بعد ویب سائٹ سے استفادہ کرتے رہیں۔
اس کے علاوہ بھی نصاب کو ذہن میں رکھ کر بازار میں دستیاب اسٹڈی مٹیریل سے تیاری کریں۔ سوالیہ پرچے کی مارکنگ اسکیم، سوالات کی تعداد، نمونہ کا پرچہ اور دیگر رہنمائی کے لیے امیدوار ویب سائٹ consortiumofnlus.ac.in سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
یکساں نمبرات حاصل ہونے پر !کئی امیدواروں کو مساوی نمبرات حاصل ہونے پر رینکنگ کے لیے قانونی توجیحات میں حاصل کردہ نمبرات، زیادہ عمر اور کمپیوٹر سے قرعہ اندازی کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔
اس لیے بھی طلبہ کو زیادہ سے زیادہ مارکس حاصل کرنے کے لیے اچھی تیاری کی ضرورت ہے۔
تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے درخواست !ہمارے کئی تعلیمی اداروں میں ذہین طلبہ جن کا رجحان شعبہ قانون کی جانب ہو انھیں اس امتحان میں شرکت کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔ ادارہ جاتی سطح پر اگر ایسے طلبہ کی نشاندہی کی جائے اور ان کی مناسب رہنمائی خاص طور پر انگریزی زباندانی، منطقی سوالات، حالات حاضرہ و عام معلومات وغیرہ ، تو ایسے طلبہ کے لیے ان امتحانات میں کامیابی کچھ مشکل نہیں ہے۔
بالخصوص انگریزی ذریعہ تعلیم کے اداروں کو اس ضمن میں پیش رفت کرنی چاہیے۔ اس اشتراک میں شامل لاء اسکولس میں ہر ادارے میں 80 تا 100نشستیں ہیں ملک میں تقریباً 2000نشستوں میں ہماری تعداد خال خال نظر آتی ہے کیونکہ بیشتر افراد کو اس ضمن میں معلومات ہی نہیں ہے جبکہ یہ ایک انتہائی اہم شعبہ ہے جہاں ہماری نمائندگی کی اشد ضرورت ہے۔



