گوشہ خواتین و اطفال

عالمی یوم خواتین کیوں مناتے ہیں

حنا

جستجو ہے گناہوں کی وہ ثواب سے ڈرتی ہے

افسوس آج بنت حوا حجاب سے ڈرتی ہے

٨ مارچ کا دن دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین کے طور میں منایا جاتا ہے کہ سماج میں موجود جنرل گیپ کو کم کیا جا سکے ایک ہی دن عالم یوم خواتین منانے کا خیال ١٩١٠ میں جرمنی کی کلائیرا زیٹکن نے دیا تھا۔

کلائیرا زیٹکن وومینس آفس فور دا سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کی رہنما تھیں انہوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ دنیا بھر میں ہر سال اسی دن کو عالمی یوم خواتین کے طور میں منا یا جانا چاہیے۔

١٧٠٠ ممالک سے زیادہ خواتین نے انکے اس مشورے سے اتفاق کیا تھا ١٩ مارچ ١٩١١ کو پہلا عالمی یوم خواتین ڈینمارک آسٹریلیا جرمنی اور سوئیزرلینڈ میں مشترکہ طور پر منایا گیا-

دو سال بعد ١٩١٣ میں ٨ مارچ کا دن مجوزہ طور پر عالمی یوم خواتین کے لیۓ طے کیا گیا اسکی تاریخ ١٩٠٨ واقع سے بھی جوڑی جاتی ہے جب تقریبا پندرہ ہزار خواتین ووٹ کے حق جاۓ سیلری اور کام کرنے کے اوقات کی۔

مانگوں کے ساتھ نیو یارک کی سڑکوں پر اتریں تھیں اس واقع کے تقریبا ایک سال بعد ٢٨ فروری ١٩٠٩ میں امریکہ نے سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ کے تعاون سے اپنا پہلا یوم خواتین منایا ١٩٧٥ جو کہ عالمی یوم خواتین تھا۔

اسی سال یونایٹیڈ نیشنس نے ٨ مارچ کو بین الاقوامی خواتین کے طور پر منانا شروع کیا بنیادی طور پر اس طرح کے پروگرام اس لۓ بھی کیے جاتے ہیں کہ جنسی امتیاز کے لوگوں کو بیدار کیا جاسکے۔

یہ دن اسلۓ بھی منایا جاتا ہے کہ جنسی مساوات کو قائم کیا جاسکے یعنی وہ حقوق جو مردو کو با سانی حاصل ہیں عورتوں کو بھی انھیں دلایا جاسکے۔

حالانکہ یہ اب ک ممکن نہیں ہو سکا حال ہی میں شروع ہوئی می ٹو کا ذکر بجی ضروری ہےجنکے تحت دنیا بھر کی عورتوں کے ساتھ ہو ۓ جنسی طور پر ہراساں کے واقعات شہر کریں انکا سامنا انھیں سماج میں آۓ دن کرنا پڑتا ہے۔

ان بنیادی باتوں سے قطعی نظر زمینی سچائی کی بات کریں ورلڈ اکونومک فورم کے مطابق ٢١٨٦ تک جینڈر گیپ برکرار رھیگا ورلڈ اکونومک فورم ٢٠١٧ کے گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ کے مطابق مرد اور عورت کے درمیانی خلج کو بھرنے کے لۓ ٢٠٠ سال کا عرصہ درکار ہے۔

ہندوستان کی بات کریں تو آج بھی آبرو ریزی جہیز جیسے مسئلوں کا عورتوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے اس دن کو منا یا جانا ایک اہم بات ہو سکتی ہے لیکن ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ ہم اسکو کم کرنے کے لۓ یا اسکو ختم کرنے کے لۓ کیااقدام اٹھارہے ہیں بات جنسی تناسب کی ہو یا عورتوں کی تعلیم کی۔

ہر جگہ جنسی امتیاز کی صورت دیکھنے کو ملتی ہے ہمارے سماج میں موجود فضلی اصولوں کی وجہ سے آج بھی لڑکیاں گھروں تک محدود رکھی جاتی ہیں ۔تعلیم کی بات کریں تواینوعل اسٹیٹس آف ایجوکیشن رپورٹ کے مطابق ٨٩ فیصد لڑکیاں آج بھی اسکول میں داخلہ کرانے کے بجاۓ گھر کے کاموں تک محدود رکھی جاتی ہیں ٣٢ فیسد لڑکیاں جو کہ ١٦ سے ١٨ سال کی عمر کے درمیان ہوتی ہیں۔

انہیں گھر کی رکاوٹوں کی وجہ سے اسکول چھوڑنا پڑتا ہے اینوعل اسٹیٹس آف ایجوکیشن رپورٹ کے مطابق ٧٦ فیسد لڑکیاں اپنی ساری زندگی انٹرنیٹ کا استعمال نہیں کر پاتیں جبکہ ٢٢ فیصد لڑکیوں نے کبھی موبائیل استعمال نہیں کیا لڑکوں کی بات کریں تو ٥١ فیصد لڑکے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ ٨٨ فیصد لڑکے موبائیل کا استعمال کرتے ہیں یہ اچھی بات ہے کہ ہمارے دیش میں بھی ٨ مارچ کا دن علمی یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے۔

درسگاہوں میں مختلف قسم کے پروگرام کیۓ جاتے ہیں ریلیاں نکالی جاتی ہیں لیکن اگر ہندوستان میں عورت کے حالات کی بات کریں تو ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی جسکا جشن منایا جاۓ خواتین ریزرویشن بل کی بات کریں تو پارلیامینٹ اور اسمبلی میں ٣٣ فیصد خواتین کے لیۓ جو بل ١٩٩٦ میں متعارف کرایا گیا تھا۔

اسکو ابتک پاس نہیں کرایا جا سکا ہے غور طلب یہ کہ یہ لوک سبھا میں ابھی خواتین کی تعداد ٥٤٥ میں سے صرف ٦٣ ہے اگر یہ بل پاس ہوتا ہے تو انکا تعداد ١٨٩ ہوتی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں عورتوں کی حالت کیسی ہے آج بھی ورکنگ وومین کو آدمی کے مقابلے میں ملنے والا معاوضہ کم ہے۔

گھر ہو یا باہر خواتین کو جنسی امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسلیۓ یہ سوال اٹھانا بھی ضروری ہے کہ کیا صرف ا یک دن کو عورت سے منسوخ کرکے اسکا جشن منا کے ان تمام آدمی مساوات کو ختم کیا جاسکتا ہے جو صدیوں سے مرد اور عورت کے درمیان حائل ہیں یا پھر اسکے لۓ کچھ اور عملی اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button