سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

خوابوں کی تعبیر اور ان حقیقت

ایک زاہد کا خواب

کسی شہرمیں ایک زاہد رہتا تھا اللہ تعالی نے خواب میں مطلع کیا کہ میں اس شہر پر آفت بھیج رہاہوں ایک شخص بھی اس آفت سے نہیں بچے گا۔ زاہد نے پوچھا خداوندا! کونسی آفت بھیجے گا۔

اللہ نے فرمایا کہ آگ بھیجوں گا تاکہ وہ سوائے ایک فاحشہ کے گھر اور اسکے اندر پناہ لینے والوں کے سب کو جلادے۔ زاہد نے کہا خداوندا! میراحال کیاہوگا؟

جواب ملا تجھ کو بھی جلادوں گا۔مگر ہاں اگرتوفاحشہ کے گھر میں پناہ لے گا تو اس فاحشہ کے طفیل تو بچ جائے گا۔صبح کے وقت وہ زاہد اٹھا مصلی کندھے پر رکھااور فاحشہ کے گھر پہونچ گیا،فاحشہ اسے دیکھ کر بہت حیران ہوئی۔اس نے پوچھا کہ اے زاہد آپ میرے یہاں کس طرح پہونچ گئے؟

آپ کو معلوم ہے کہ روزانہ کس طرح کے لوگ میرے یہاں جمع ہوتے ہیں اور کیا کیا برے کام کرتے ہیں۔ زاہد نے کہا کہ میں صرف چند روز تمہارے گھر میں پناہ لینا چاہتاہوں،مجھے ایک گوشہ گھر کا دیدو میں وہاں اللہ اللہ کرتا رہوں گابقیہ تم جانو اور تمہاراکام، فاحشہ نے گھر کا ایک گوشہ دیدیا اور وہ زاہد وہاں عبادت وریاضت میں مشغول ہوگیا۔

کئی روز کے بعد شہر میں آگ لگی اور وہاں کے تمام مکانات کو جلاکر خاکستر کردیا۔ لیکن فاحشہ کا گھر بالکل محفوظ رہا۔جب آگ ختم ہوئی ۔زاہد پھر اپنے مکان میں آگیا،اس نے اللہ تعالی سے پوچھا کہ خداوندا ! اس میں کیا راز تھا؟ کہ تمام مکانوں کو تونے تو جلادیا اور سارے شہر کو خاکستر اور ویران کردیا لیکن اس فاحشہ کے گھر کو بچالیا۔اور اسی کے طفیل میں مجھے بھی نجات دیدی۔

فرمان باری ہواکہ ہمارا ایک خارش زدہ کتا بھوکا پیاسا گرمی سے زبان نکالے محلہ محلہ بھاگتارہا کسی نے نہ اس کو روٹی کا ایک ٹکڑا دیا ،نہ ایک قطرہ پانی پلایا۔ اپنی دیوار کے سایہ میں بیٹھنے بھی نہ دیا وہ غریب جہاں بھی گیالوگوں نے اس کو سختی سے مار بھگایالیکن جب وہ کتااس فاحشہ کے گھر پہونچا تو اس نے اس کو اپنی دیوار کے سایہ میں پناہ دی روٹی کھلائی اور پانی پلایا۔

اس کتے کے طفیل میں اس فاحشہ کومیں نے اس آفت سے بچالیا۔ اور اسی فعل کے عتاب میں تمام شہر کو میں نے تباہ اورویران کردیا۔اورتم کو اس فاحشہ ہی کے طفیل میں اس آفت سے محفوظ رکھا۔

قُلْ ہُوَاللّٰہُ اَحَدٌ کے متعلق ایک خواب

ایک صالح آدمی قبروں کی زیارت کیا کرتا تھا ،ایک دن اتفاق سے اُسے نیند آگئی اورزیارت نہ کی، دیکھتا کیا ہے کہ سارے مردے اپنی قبروں کے اوپر ہیں وہ کہتا ہے کہ میں نے ان سے پوچھا کیا قیامت قائم ہوگئی؟ انھوں نے کہاقیامت تو نہیں قائم ہوئی لیکن تیس برس کا عرصہ گذرا۔

جب ثابت بنانی ؒ تیس بار قُلْ ھُوَاللّٰہُ پڑھ کر اس کا ثواب ہمیں بخش گئے تھے اس دن سے آج تک ہم اس کا ثواب آپس میں بانٹ رہے ہیں،لیکن اس وقت تک پورا نہ ہوا ا ور حضرت نبی کریم کا ارشادہے کہ جو قبروں پر گذرے اورگیارہ بار قُلْ ھُوَاللّٰہُ پڑھ کر مردوں کو بخش دے تو جتنے مردے ہوں گے ان سب کو برابرثواب ملے گا۔ 

خداتعالیٰ کی محبت میں ایک نصرانی کا قبول اسلام

ایک عارف کو ایک بیما رنصرانی کے پاس حالتِ نزع میں جانے کا اتفاق ہوا تو اس سے کہا مسلمان ہو جا تجھے جنت ملے گی، وہ بولا مجھے اس کی تو حاجت نہیں،انھوں نے کہا کہ مسلمان ہوجا تجھے دوزخ سے نجات ملے گی،اس نے کہا میں اس کی بھی پرواہ نہیں کرتا، انھوں نے کہا مسلمان ہوجا تجھے خدا ئے کریم کا دیدار نصیب ہوگا۔

ا س پر وہ مسلمان ہوگیااور اس کی روح پرواز کرگئی اسی رات کو کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ خدانے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟اس نے جواب دیا، اپنے سامنے مجھے کھڑا کیا اورفرمایا، کیا تو میری لقاء کے شوق میں مسلمان ہوا ہے؟ تجھے میری لقاء اوررضا دونوں نصیب ہوں گی۔

(خوابوں کی تعبیر اور ان کی حقیقت جلد دوم از حبیب الامت  صفحہ: ۱۱۱تا۱۱۳)

متعلقہ خبریں

Back to top button