سرورقسوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

سب سے کم عمر آئی پی ایل کھلاڑی، بہترین بلے باز: سرفراز خان۔

✍️ سلام بن عثمان،کرلا ممبئی 70
22 اکتوبر 1997 کو مہاراشٹرا کے شہر ممبئی میں ایک مسلم متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد بھی کرکیٹر تھے، جس کی وجہ سے سرفراز کو کرکٹ سے دلچسپی رہی۔ کم عمری سے ہی کرکٹ کے میدان میں نظر آنے لگے۔ ان کی کرکٹ سے بے حد دلچسپی کی وجہ سے ان کی تعلیم پر بہت اثر پڑا۔ تقریبآ چار سال تک اسکول نہیں گئے۔
والد نے جب دیکھا کہ سرفراز تعلیم کے معاملے میں کافی پیچھے ہے۔ ان کا بیشتر حصہ آزاد میدان میں گزرتا تھا۔ ان کے والد کرکٹ کے کوچ نوشاد خان نے اقبال عبداللہ اور کامران خان جیسے نوجوان کرکیٹرز کو کرکٹ میں بہترین تربیت دی۔
سرفراز کی بہترین بلے بازی کو دیکھتے ہوئے والد نوشاد نے انھیں گیند کو صحیح وقت پر کس طرح کھیلنا چاہیے اس ہنر سے واقف کرایا۔ انھوں نے سرفراز کو تعلیم سے دوبارہ منسلک کراتے ہوئے ریاضی اور انگریزی کی کلاسوں کے لیے پرائیویٹ ٹیوٹر کو رکھا۔
جب تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا تو گھر سے میدان تک پہنچنا مشکل ہو جاتا تھا۔ سرفراز کو کرکٹ کی تربیت بھی دینی تھی۔ ان کے کوچ والد نوشاد گھر کے قریب ایک مصنوعی پچ بنائی۔ اس مصنوعی پچ سے سرفراز کا وقت بھی ضائع نہیں ہوا، ساتھ ہی اس پچ نے باؤنسر وکٹوں پر کھیلنے کی عادت میں مدد کی۔ اس کا فائدہ سرفراز کو فرسٹ کلاس کرکٹ اور ٹی 20 کرکٹ میں پہنچا۔ 
سرفراز خان اس وقت سرخیوں میں آئے جب انھوں نے ہریش شیلڈ ٹورنامنٹ کے وقت 421 گیندوں پر 439 رنز کی بہترین تیز رفتار اننگ کھیلتے ہوئے 45 سالہ ماضی کا ریکارڈ توڑا۔ جسے مشہور کرکٹر سچن ٹینڈولکر نے قائم کیا تھا۔ 2009 میں ان کا ہریش شیلڈ ٹورنامنٹ کا پہلا میچ تھا۔
اس وقت سرفراز کی عمر صرف 12 سال تھی۔ اس شاندار اننگ میں 56 چوکے اور 12 چھکے شامل تھے۔ جس کی وجہ سے انھیں جلد ہی انڈر 19 ٹیم میں کھیلنا شروع کر دیا۔ ان کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے ٹیم انڈیا کے انڈر 19 میں ان کا انتخاب ہوا۔
2013 میں انھوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف انڈر 19 میں 66 گیندوں میں 101 رنز بنائے۔ جس میں 17 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ ان کی اس بہترین کارکردگی سے خوش ہوکر ان کے ہیڈ کوچ نے اپنے انٹرویو میں کہا "سرفراز بہت ہی بہترین دلکش کھلاڑی ہے۔ وقت کی نزاکت کو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔
اپنے سیکڑے میں اس نے میدان کے چاروں طرف شاٹس کھیلے۔ وہ سیدھے کھیلتے ہوئے بہت بہتر نظر آتے ہیں۔ سرفراز پچ پر قدموں کا بہت ہی اچھی طرح استعمال کرتا ہے جو کرکٹ میں بہت ضروری ہے۔ ہر کمزور گیند کو سزا بھی دیتا ہے۔” 
سرفراز خان کو انڈر 19 ورلڈ کپ میں دو مرتبہ شامل کیا گیا 2014 اور 2016۔ اس وقت سرفراز نے اپنے چھ میچوں میں 211 رنز بنائے جس میں دو نصف سنچریاں بھی تھیں۔ اس بہترین کارکردگی کی وجہ سے انھیں آئی پی ایل فرنچائز رائل چیلنجرز بنگلور نے انھیں 2015 سیزن کے لیے پانچ میلین میں خریدا۔17 سال کی عمر میں آئی پی ایل میچ میں شامل ہونے والے سب سے کم عمر کھلاڑی کے طور پر شناخت بنائی۔  
بنگلہ دیش میں2016 کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں سرفراز خان نے ٹورنامنٹ کے دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز رہے۔ انھوں نے چھ اننگز میں 355 رنز بنائے۔ سرفراز خان نے اپنے دو ورلڈکپ انڈر 19 کی سطح پر سات نصف سنچریاں بنانے کا ریکارڈ قائم کیا۔ سال 20-2019 میں اتر پردیش کے خلاف کھیلتے ہوئے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سرفراز خان نے اپنی پہلی ٹریپل سنچری بنائی۔
آئی پی ایل میں راجھستان رائلز کے خلاف کھیلتے ہوئے 21 گیندوں پر 45 تیز رفتار رنز بنائے۔ جس میں چھ چوکے اور ایک چھکا بھی لگایا۔ ان کی اس بہترین کارکردگی سے خوش ہوکر ویراٹ کوہلی نے ڈریسنگ روم میں سرفراز کی تعریف کی۔ 2015 کے آئی پی ایل سیزن میں 111 رنز بنائے۔
سنرائز حیدرآباد کے خلاف کھیلتے ہوئے 10 گیندوں پر 35 رنز بناتے ہوئے سیزن کا تیز ترین آغاز کیا۔ 19ویں اوورز میں سرفراز نے ٹورنامنٹ کے بہترین گیند باز بھوبنیشور کمار کی گیند پر زبردست ضرب لگاتے ہوئے چار چوکے اور ایک چھکا لگایا۔
سرفراز کی اس بہترین کارکردگی پر بین الاقوامی مشہور کھلاڑی کرس گیل نے کہا کہ "سرفراز بہت چھوٹا ہے، میرے بیٹے کی طرح ہے۔ مستقبل میں اس کو موقع دیا جانا چاہیے۔ مستقبل میں ٹیم انڈیا کا بہترین کھلاڑی بن کر ابھرے گا۔” 2016 کے سیزن میں۔ آر سی بی کے لیے اہم اننگز کھیلنا جاری رکھا۔
کچھ میچ میں فٹنیس کی تکلیف ہونے پر انھیں ٹیم سے باہر رکھا گیا۔ فٹنیس کی تکلیف کی وجہ سے سرفراز نے صرف پانچ میچ کھیلے جس میں 66 رنز بنائے۔ 2018 کے سیزن سرفراز کے لیے خراب رہا، اپنے چھ اننگز میں 51 رنز بنائے۔ 2019 کے سیزن میں پنجاب کنگز نے موقع دیا۔
اس وقت آٹھ میچوں میں 180 رنز بنائے اور سیزن کا بہترین اسکور رہا 67 رنز۔ 2022 سیزن میں سرفراز خان کو دہلی کیپیٹلز نے آئی پی ایل ٹورنامنٹ کے لیے اپنی ٹیم میں شامل کیا۔
سرفراز خان نے اپنا پہلا فرسٹ کلاس میچ 28 دسمبر 2014 میں ویسٹ بنگال کے خلاف کھیلا۔ پہلا ٹی20 میچ 12 اپریل 2014 میں سوراشٹر کے خلاف کھیلا۔ پہلا لسٹ اے میچ 2 مارچ 2014 میں سوراشٹر کے خلاف کھیلا۔ 
سرفراز خان نے 21 فرسٹ کلاس میچوں میں 1934 رنز بنائے جس میں چھ نصف سنچریاں اور پانچ سنچریوں کے ساتھ بہترین کارکردگی رہی 301 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگ کے ساتھ گیارہ کیچیز بھی شامل ہیں۔
68 ٹی 20 میچوں میں 781 رنز بنائے تین نصف سنچریاں اور بہترین اسکور رہا 67 رنز کے ساتھ 19 کیچیز۔ 21 لسٹ اے میچوں میں 325 رنز میں ایک سنچری اور چھ کیچیز شامل ہیں۔ انڈر 19 ورلڈ کپ کے میچوں میں سات نصفِ سنچریوں کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
سلام بن عثمان

متعلقہ خبریں

Back to top button