قومی خبریں

انتخابی نتائج: شکست چھپانے کیلئے ای وی ایم کا مسئلہ اٹھا رہی ہیں سیاسی پارٹیاں لوگوں کے دماغ میں چپ :اسدالدین اویسی

لکھنو، 10 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اتر پردیش میں پانچ مراحل میں ہونے والے انتخابات کے نتائج آ گئے ہیں۔ یوپی میں بی جے پی نے تقریبا 270 سیٹوں پر برتری حاصل کر لی ہے۔ وہیں ایس پی صرف 128 سیٹوں تک محدود دکھائی دے رہی ہے۔ ساتھ ہی اویسی کا بیان انتخابات کے نتائج پر آیا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے کہا کہ یوپی کی عوام نے بی جے پی کو اقتدار دینے کا فیصلہ کیا ہے، عوام کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں، میں اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدور، کارکنان، اراکین اور لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں ووٹ دیا، ہم نے بہت کوشش کی لیکن نتائج ہماری توقعات کے مطابق نہیں آئے، ہم دوبارہ محنت کریں گے۔

ای وی ایم کے معاملے پر مزید بات کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیاں ای وی ایم کا مسئلہ اٹھا کر اپنی شکست چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں، یہ ای وی ایم کا قصور نہیں ہے بلکہ عوام کے دماغ میں چپ ہے۔

ہم کل سے دوبارہ کام شروع کر دیں گے اور مجھے یقین ہے کہ ہم اگلی بار بہتر کام کریں گے۔اسد الدین اویسی نے کہا کہ اتر پردیش کی اقلیتوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

لکھیم پور کھیری میں بھی بی جے پی جیت گئی، اس لیے میں کہہ رہا ہوں کہ یہ 80-20 کی جیت ہے۔ یہ 80-20 کی صورتحال برسوں تک رہے گی۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے حوصلے اب بھی بلند ہیں۔مایاوتی کے بارے میں پوچھے جانے پر اویسی نے جواب دیا کہ اگر بہوجن سماج پارٹی کو تحلیل کر دیا گیا تو یہ جمہوریت کے لیے ایک افسوسناک دن ہو گا۔

بی ایس پی نے ہندوستان کی جمہوریت میں بڑا کردار ادا کیا ہے، ہمیں امید ہے کہ پارٹی مضبوط ہوگی۔ آج کا نتیجہ کمزوری ضرور ظاہر کرتا ہے، لیکن بی ایس پی کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button