قومی خبریں
500 طالبات کے جنسی استحصال کے الزامات کے بعد NLIU کے پروفیسر نے دیااستعفیٰ -وزیراعلیٰ نے دیاانکوائری کا حکم
بھوپال،11؍مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) نیشنل لاء یونیورسٹی (NLIU) کے تقریباً 500 طلبہ نے پروفیسر تپن رنجن موہنتی پر جنسی استحصال sexual abuse کا الزام لگاتے ہوئے ان کے کیبن کے باہر گھیراؤ کیا، جس کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس معاملے کو لے کر وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کی رہائش گاہ پر ایک میٹنگ کی گئی۔
اس میٹنگ میں NLIU کی طلبہ تنظیم نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی۔ ڈی جی پی اور بھوپال کمشنر کو تحقیقات کرنے اور متعلقہ ٹیچر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ خاتون پولیس افسر کو بھی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ طلبہ کے ساتھ زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔
میں اس معاملے پر سی جے آئی اور ہائی کورٹ کے ججوں سے بھی بات کروں گا۔نئی دنیا میں شائع خبر کے مطابق 500 سے زائد طلبہ نے پروفیسر تپن موہنتی پر فحش پیغامات اور ویڈیو بھیجنے کا الزام لگایا ہے۔ نیزپروفیسر موہنتی نے بھی اس پورے معاملے پر بیان جاری کیا ہے کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور بغیر ثبوت کے لگائے گئے ہیں۔
میں صرف ایک منصفانہ تحقیقات چاہتا ہوں۔میری آپ سے درخواست ہے کہ ڈرانے دھمکانے اور زبردستی کرنے کے بجائے قانونی طریقہ کار پر عمل کریں۔ اس سے قبل اس پروفیسر پر این ایل آئی یو میں فرضی ڈگریوں کا الزام بھی لگایا جا چکا ہے۔
متاثرین کا مطالبہ ہے کہ پورے معاملے کی جانچ ڈسٹرکٹ جج سے کرائی جائے۔ اس پورے تنازعہ کے سامنے آنے کے بعد 23 سال تک اس عہدے پر براجمان پروفیسر تپن کو استعفیٰ دینا پڑا۔ متاثرہ طالبات کا الزام ہے کہ آف لائن کلاسز کے دوران پروفیسر طالبات کو پرائیویٹ فون کرتا تھا اور فحش پیغامات اور ویڈیوز بھیجتا تھا۔ تاہم پروفیسر نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔



