ہائی کورٹ نے شرجیل امام کی درخواست پر پولیس سے جواب مانگا-غداری کے الزامات طے کرنے والی عرضی کوچیلنج
نئی دہلی ، 11مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالب علم شرجیل امام کے خلاف بغاوت کے الزامات طے کرنے کو چیلنج دینے والی درخواست پر دہلی پولیس سے جواب مانگا۔ یہ مقدمہ 2019 میں شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے خلاف احتجاج کے دوران ان کی مبینہ اشتعال انگیز تقریر سے متعلق ہے۔جسٹس سدھارتھ مردول اور جسٹس انوپ کمار مینڈیرٹا نے پولیس کو نوٹس جاری کیا اور معاملے کی مزید سماعت 26 مئی کو مقرر کی۔
دہلی پولیس کی جانب سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر امیت پرساد نے متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کے لیے وقت مانگا تھا۔ عدالت نے کہا کہ اسے دو ہفتے کے اندر اندر کیا جائے۔امام کو جنوری 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے کا الزام ہے۔ انہوں نے 24 جنوری کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا ہے جس میں ان کے خلاف بغاوت کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ٹرائل کورٹ نے کہا تھاکہ اس کیس میں تعزیرات ہند کی دفعہ 124-اے (بغاوت)، دفعہ-153اے (دو مختلف گروہوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر نفرت کو فروغ دینا)، دفعہ153بی (قومی اتحاد کے خلاف الزام)، غیر قانونی سرگرمیاں (ممانعت) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ 505 (عوامی پریشانی کا باعث بننے والا بیان)، سیکشن 13 (غیر قانونی سرگرمی کی سزا) کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اسی دن عدالت نے اس معاملے میں امام کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کر دی جسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور فی الحال زیر التوا ہے۔
معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 26 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔شرجیل کے وکیل احمد ابراہیم نے عدالت سے کہا کہ نچلی عدالت اس بات کی تصدیق کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے کہ تشدد کے لئے اکسانے سے متعلق کسی تقریرکوغیر قانونی سرگرمیاں اور روک تھام ایکٹ کی دفعہ اے 124 اور 13 کے تحت کسی بھی جرم کے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔



