سپریم کورٹ پاکستان کی جیل میں قید آرمی آفیسر کی والدہ کی درخواست پر سماعت کرنے پررضامند
نئی دہلی، 11 مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے جمعہ کو ایک فوجی افسر کی ماں کی درخواست پر سماعت کیلئے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے مرکز کو اپنے بیٹے کو پاکستان سے واپس لانے کے لیے سفارتی ذرائع سے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔
یہ فوجی افسر 24 سال سے زائد عرصے سے پاکستان کی جیل میں بند ہے۔چیف جسٹس این جسٹس وی رمنا، جسٹس اے ایس بوپنا اور ہیما کوہلی کی بنچ نے ایڈوکیٹ سوربھ مشرا کی عرضیوں کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو فوری طور پر درج کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک فوجی کی واپسی سے متعلق ہے۔
بنچ نے کہا کہ ہم اپریل کے پہلے ہفتے میں اس کی فہرست بنائیں گے۔اس سے قبل بنچ نے گزشتہ سال 5 مارچ کو کیپٹن سنجیت بھٹاچاریہ کی والدہ 81 سالہ کملا بھٹاچاریہ کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا۔
فوجی افسر کی والدہ نے حکام کو ہدایت کی درخواست کی ہے کہ وہ فوری انسانی بنیادوں پر معاملے میں مداخلت کریں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو اطلاع ملی تھی کہ سنجیت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں بند ہے۔ سنجیت کو اگست 1992 میں ہندوستانی فوج کی گورکھا رائفلز رجمنٹ میں ایک افسر کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔



