قومی خبریں

سپریم کورٹ کا کورونا معاوضے کے فرضی دعووں پر اظہار تشویش، کیس کی سماعت 21 مارچ کو

نئی دہلی،14؍مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے کورونا معاوضے کے فرضی دعوے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے ایس جی تشار مہتا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ بہت سی ریاستوں کو کووڈ سے ہونے والی اموات کا سامنا کرنے والے خاندانوں کو دی جانے والی امدادی رقم کے لیے جھوٹے دعوے ہو رہے ہیں۔

جس پر عدالت کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ کورونا سے ہونے والی موت کا معاوضہ لینے کے لیے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنا رہے ہیں۔ اب سپریم کورٹ نے مرکز سے کہا ہے کہ وہ ان فرضی دعووں کے بارے میں منگل تک حلف نامہ داخل کرے۔ جس کے بعد 21 مارچ کو عدالت میں معاملے کی سماعت ہوگی۔سپریم کورٹ نے یہ بھی تجویز کیا کہ مبینہ فرضی موت کے دعووں کی تحقیقات سی اے جی کو سونپی جا سکتی ہے۔

مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے تشار مہتا نے آج مشورہ دیا کہ معاوضے کے دعوے دائر کرنے پر ایک حد مقرر کی جانی چاہیے۔ لوگوں کو موت کے 4 ہفتوں کے اندر دعوی دائر کرنے کی ضرورت ہے۔ معاوضے کے دعوے کا عمل لامتناہی نہیں ہونا چاہیے۔

سماعت کے دوران جسٹس ایم آر شاہ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا۔جسٹس شاہ نے کہا کہ کیا ہماری اخلاقیات اتنی گر چکی ہیں کہ اس میں جھوٹے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس طرح کے جھوٹے دعوے کیے جائیں گے، معاوضہ دینا ایک مقدس عمل ہے اور ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس سکیم کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔

اگر افسران اس میں ملوث ہیں تو یہ اور بھی سنگین ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے جعلی کورونا ڈیتھ سرٹیفکیٹس کو روکنے کے طریقہ کار پر تجاویز طلب کی ہے ، جس کے تحت 50,000 امدادی رقم جاری کی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button