قومی خبریں

کرناٹک ہائی کورٹ حجاب تنازعہ پر کل اپنافیصلہ سنائے گا

بنگلورو14مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کرناٹک ہائی کورٹ کل حجاب تنازعہ پر اپنافیصلہ سنائے گا۔ ہائی کورٹ کی فل بنچ نے گزشتہ ماہ اس معاملے کی سماعت مکمل کی ہے۔این ڈی ٹی وی نے یہ رپورٹ دی ہے ۔فل بنچ میں چیف جسٹس رتوراج اوستھی، جسٹس جے ایم کھاجی اور جسٹس کرشنا ایم دکشٹ شامل ہیں۔

کرناٹک حکومت کی جانب سے یہ دلیل دی گئی ہے کہ حجاب ضروری مذہبی روایت نہیں ہے اور مذہبی ہدایات کو تعلیمی اداروں کے باہر رکھا جانا چاہیے۔ ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگ نوادگی نے حجاب کیس کی سماعت کرنے والی کرناٹک ہائی کورٹ کی فل بنچ کو بتایاہے کہ ہمارا موقف ہے کہ حجاب ضروری مذہبی روایت نہیں ہے۔

ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے دستور ساز اسمبلی میں کہا تھا کہ ہمیں اپنی مذہبی ہدایات کو تعلیمی اداروں سے باہر رکھناچاہیے۔ اٹارنی جنرل کے مطابق آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت صرف ضروری مذہبی رسومات کو تحفظ حاصل ہے جو شہریوں کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔

عدالتی کارروائی کے آغاز پر چیف جسٹس اوستھی نے حجاب کے بارے میں کہا تھا کہ کچھ وضاحتیں یہ ہیں۔ چیف جسٹس نے سوال کیا تھا کہ آپ نے دلیل دی ہے کہ حکومتی حکم سے کوئی نقصان نہیں ہوگا اور ریاستی حکومت نے حجاب پر پابندی نہیں لگائی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی پابندی لگائی ہے۔

حکومتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ طالبات کو مقررہ لباس پہننا چاہیے۔ آپ کا کیا موقف ہے۔ تعلیمی اداروں میں حجاب کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں نوادگی نے کہا کہ اگر اداروں کو اس کی اجازت دی جاتی ہے تو یہ مسئلہ پیدا ہونے پر حکومت شاید کوئی فیصلہ کرے گی۔

دوسری جانب درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت میں کہاگیاکہ حجاب پر پابندی قرآن پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔نیزیہ مذہبی آزادی کے خلاف ہے جوسیکولرزم کی بنیادہے ۔مسلم طالبات کو تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے سے روکنے کا تنازع دسمبر میں اس وقت شروع ہوا جب کرناٹک کے اڈپی ضلع کی چھ طالبات نے آواز اٹھائی۔ جس کے بعد لڑکیاں ہائی کورٹ پہنچیں۔

تب سے یہ معاملہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ فی الحال کرناٹک ہائی کورٹ نے کسی بھی مذہبی علامت کو پہن کر اسکول جانے پر عارضی پابندی لگا دی ہے۔گرچہ سرکاربھی یہ نہیں بتارہی ہے کہ سکھوں کی پگڑی ،کرپان اورعیسائیوں کے صلیب کی علامت کاکیاہوگا۔یہ بھی تومذہبی علامتیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button