سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

انصاف سے خالی عدالتی نظام-✍️ایڈوکیٹ شیخ شاہد عرفان، ممبئی

رسول سعیدی محمد مصطفیٰ کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے "حکومتیں کفر کے ساتھ تو قائم ہو سکتی ہے تاہم انصاف کے بغیر حکومتیں قائم نہیں ہو سکتی”، گویا یہ ایک جملہ سرکار مدینہ محمد مصطفیٰ کا وسعتوں میں اپنے اندر کائنات کو سمیٹے ہوئے ہے، عدل و انصاف ہی حکومت کو پائیدار بنانے کا واحد ظامن ہے، دنیا پوری میں بسنے والے اکثر و بیشتر ممالک میں عدلیہ انصاف کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔

مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کے ساتھ عدالت نے جو فیصلہ صادر کیا تھا اس فیصلے نے ناانصافی کی سیاہ تاریخ مرتب کردی، عراق کے صدر مرحوم صدام حسین کا حشر بھی ان ناپیدار دجالی ایماء پر قائم عدالت نے کیا، عراق پر امریکہ و اتحادیوں نے جابرانہ عسکری حملہ کرکے قبضہ کرلیا تھا، عراق کے صدر مرحوم صدام حسین کو گرفتار کر کے ان پر فرضی مقدمہ درج کر دیا۔

اپنے اغراض و مقاصد حصول کے تحت عدالت قائم کی گئی، نتیجہ جس طرح کا فیصلہ امریکہ صدام حسین کے لئے چاہتا تھا عدالت نے بلکل وہی فیصلہ صادر کیا نیز صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی۔ مصر کے صدر حسن مبارک پر بھی اسی نوعیت کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ موصوف اپنی زندگی کے آخری ایام عدالت کی پیشی میں سرف کرتے ہوئے مالکی حقیقی سے جا ملے۔

لیبیا کے صدر قدافی کا حشر بھی ہولناک طریقہ سے کیا گیا۔ ستر کی دہائی میں جناب زولفقار علی بھٹو کو کچھ اسی طرز کی عدالت نے پھانسی کا فیصلہ صادر کر دیا تھا، لہٰذا انہیں بھی پھانسی دے کر دنیا سے فارغ کردیا گیا، سیاسی مقاصد کو عدالتوں کے ذریعے اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر نہایت خوبصورتی سے استعمال کرنے کی مہارت برصغیر ہند میں کافی پروان چڑھ رہی ہے۔

یہ وہ چند بڑے بڑے حضرات کی فہرست ہے جنہیں دنیا سے فارغ کرنے میں عدالتوں کو استعمال میں لیا گیا، جس طرح کے فیصلے تخریب کار چاہتے ہیں اسی طرح کے فیصلے ان تخریب کار عناصر عدالتوں کے ذریعے اپنے تعین کردہ منصف عدالتوں میں دیتے ہیں۔

دنیا پوری کے کم و بیشتر ممالک میں نظام عدلیہ تخریب کار دجالی عناصر کے مکمل قبضے میں جا چکا ہے، اقوام متحدہ ادارہ جس اغراض و مقاصد کے لئے وجود میں لایا گیا تھا، انہیں اقوام متحدہ کبھی پورا نہ کرسکا یہ دجالی ادارہ دنیا میں امن قائم کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو کر رہ گیا۔

خلیجی جنگ نے دنیا پوری کو یہ باور کرایا کہ اب اقوام متحدہ ادارے کی کوئی حثیت باقی نہیں رہ گئی، امریکہ و اتحادیوں نے عراق، لبیا، شام، لبنان، یمن میں جنگیں برپا کی مزید عراق پر غاصبانہ قبضہ کر کے ١٤ لاکھ افراد کو مار دیا، ایک فضول سا جواز دنیا پوری کے روبرو پیش کر کے دنیا و اقوام متحدہ کو ذرا برابر بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے جھوٹ کا بازار گرم کرتے ہوئے کہا عراق کے پاس مہلک جوہری ہتھیار ہے۔

جس کی بنا پر دنیا کوخطرہ لاحق ہے اس قدر جھوٹ پر مبنی قیاس آرائیاں عراق کو تباہ کر نے کی خاطر استعمال کی گئی، اس سے بڑی عدل و انصاف کو ضرب کسی اور ممالک نے نہیں پہنچائ، اقوام متحدہ خاموش تماشائی بن کر عراق، یمن لبیا، لبنان فلسطین وغیرہ وغیرہ میں پھیلتے جنگوں سے اٹھتا دھواں دیکھتا رہا۔

عدالتیں مہز اس لئے قائم رکھی گئی تانکہ دجالی شکل یہ تخریب کار وں کی عدالتوں کے پیچھے چھپی رہے، تقسیمِ ہند کے بعد بھارت میں سیاسی نظام جمہوریت وسیکولرطرز کا آئین مرتب کر کے کیا گیا، جس کا مقصد ہر شہری قانون کے روبرو یکساں طور پر حقوق رکھتا ہے۔

کوئی بڑا کوئی چھوٹا نہیں قانون سب کے لئے ایک جیسا، بہر کیف آئین صفحوں پر لکھی عبارت بن کر رہ گیا، یکسانیت کا حصول عمل زندگی میں نافذ کرنے سے تمام حکومتیں بری طرح سے ناکام ہو کر رہ گئی۔

راجیو گاندھی کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا، اس سانحہ کو واقع ہوئے ٣٢ سال کا طویل عرصہ گذر چکا تاہم آج بھی انجہانی راجیو گاندھی کے قاتل زندہ و جاوید صحیح سلامت کرہ ارض پر موجود اپنی عطاء کردہ حیات مکمل کر رہے ہیں، اس کے برعکس راجیو گاندھی قتل کے چند سال بعد ممبئی میں بم بلاسٹ ہوا جس میں کئی افراد جاں بحق ہوئے لاکھوں کی املاک تباہ ہو کر رہ گئی۔

لہٰذا ممبئی بم بلاسٹ مقدمہ کا فیصلہ اپنی طویل ترین سماعت کے اختتام پر عدالت نے صادر کر دیا، ، یقوب میمن کو اس مقدمے میں پھانسی کی سزاء سنائی گئی، نچلی عدالتوں سے عدالت عظمیٰ تک رسائی حاصل کرنے کے بعد بھی فیصلہ میں کوئی ترمیم نہیں ہو سکی، اس مقدمے کی سماعت رات دیر گئے تک عدالت عظمیٰ نے کی تمام دفاعی امور کو نظر انداز کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے رات دیر گئے پھانسی کی سزاء کو نافذ کرنے والے پروانے پر روک لگانے سے انکار کردیا۔

لہٰذا طلوعِ آفتاب سے قبل یعقوب میمن کو پھانسی دے کر دنیا سے فارغ کردیا گیا، انصاف کا عجیب و غریب رنگ عدالتیں پیش کر رہی ہے، بابری مسجد ٦ دسمبر ١٩٩٢ کو شہید کر دی گئی، بابری مسجد فیصلہ ملک کی نچلی عدالتوں سے گذرتا ہوا عدالت عظمیٰ تک رسائی کرتا ہوا انصاف کو ترس گیا۔

بلاآخر بھارت کی سب سے بڑی عدالت نے مسجد کو رام مندر میں تبدیل کر دیا۔ تاہم جن تخریب کاروں نے بابری مسجد شہید کی تھی وہ تمام آج عدالتوں کے ذریعے بری ہوچکے ہیں، گویا بابری مسجد کو شہید نہیں کیا گیا وہ خود ہی منہدم ہوگئی۔

گجرات فسادات ٢٠٠٢ میں ہوئے انتہائی خونی فساد جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی مسلم حملہ عورتوں کا پیٹ چیر کر نوزائیدہ بچے کو تلوار کی نوک پر رکھ کر فضاء میں لہرانے والے درندوں کو مقامی عدالتوں نے با‌عزت بری کردیا گجرات کے ہولناک فسادات نے ٤٠٠٠ افراد کو لقمہ اجل بنا دیا۔بھارت کی ٨٥٪ عوام غربت سے دوبدو ہو چکی یا منظم طریقہ کار سے غربت ذدہ کر دی گئی۔

عوام میں جد وجہد کرنے یا تحرک برپا کرنے کی استعداد باقی نہیں رہی، ملک کی دولت چند صنعت کاروں و سیاسی اکابرین کے ہاتھوں میں گردش کرتی جارہی ہیں، ملک کے بڑے صنعتی گھرانوں نے دولت کا انبار لگا رکھا ہے مزید لاکھوں روپیہ بڑی بڑی بنکوں سے قرض لے کر اپنے جمع شدہ دولت میں اضافہ کرتے چلے گئے۔

تاہم حاصل شدہ رقم کی ادائیگی کا تو ذکر ہی نہیں، ملک کے غریب ترین شہری اپنے حصے کی دولت ایسے سیاسی اکابرین و صنعت کاروں کو نظر کرتے چلے جارہے ہیں، ایسے سیاسی و صنعت کار مجرم قرض کی ادائیگی نہ کرتے ہوئے ملک ہی سے بیرون ملک ہجرت کرجاتے ہیں، ریاست کا کوئی قانون کوئی عدالت ان کو گرفتار کرنے یا کیفرکردار تک رسائی کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

دوسری جانب غریب طبقہ جن میں مسلمان و دلتوں کی اکثریت ہے، مقامی عدالتوں کو توانائی فراہم کرتے نظر آتے ہیں گویا کہ تمام قانون کا اطلاق معاشرے کے غریب ترین افراد کے لئے تشکیل دیا گیا ہے، ملک میں عدالتوں میں داخل کردہ مقدمات میں مجرم زیادہ تر مسلمان ہی ہیں۔

ریاست کی جیلوں میں قیدی اپنی پیشی کے لئے ترستے رہتے ہیں، تاہم کوئی ان مجرموں کا پرسان حال نہیں ہوتا، عدالتوں میں منصف روز مرہ کی طرح ملازمت کے فرائض انجام دینے کے لئے تشریف آور ہوتے ہیں، جب منصف ملازمت کرتا ہوا فیصلہ صادر کرتے ہیں۔

ایسے فیصلوں کی نوعیت احمقانہ نکات پر مشتمل ہوکر ناانصافی کی طرف جھک جاتی ہیں، ایسے احمقانہ فیصلوں کی طویل فہرست دستیاب ہے۔ سیاسی حکمران عدالتی نظام سے کھیلتے ہوئے اپنے سیاسی امور کو حاصل کرتے ہے۔ اسقدر انصاف کا گرتا معیار عذابِ الٰہی کا منتظر تو ضرور ہوگا۔

سیعدی رسول محمد مصطفیٰ کی حدیث مبارکہ کی روشنی میں ذائزہ لینا وقت کی ضرورت بن چکی ہے گزشتہ کہی سالوں سے ریاست کی سیاست نے ملک میں انارکی کی فضاء کو ہوا دے رکھی ہے۔ حدیث رسول محمد مصطفیٰ اپنے جگہ قائم یہ پیغام دے رہے ہیں، عدل و انصاف کو قائم کرو ورنہ حکومت بغیر انصاف کے قائم نہیں رہ سکتی۔

وما علینا الاالبلاغ المبین

متعلقہ خبریں

Back to top button