بین ریاستی خبریں

ایم پی کی نشست یاممبر اسمبلی سیٹ کسے چھوڑیں-اکھلیش یادو

پارٹی لیڈران کی آراء اور ان کی تجاویز پر لیا جائے گا فیصلہ 

اعظم گڑھ21مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوپی کے انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو بھلے ہی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہو، لیکن ایس پی نے اعظم گڑھ سمیت پانچ اضلاع میں کلین سویپ کیا ہے۔ ایس پی کے قومی صدر اکھلیش یادو پیر کو اچانک اعظم گڑھ پہنچے۔ یہاں انہوں نے میڈیا سے بات چیت میں بڑا بیان دیا۔

اس سوال پر کہ وہ ایم پی یا ممبر اسمبلی کی نشست میں کیا چھوڑیں گے،اس کے جواب میں اکھلیش نے کہا کہ ہم آپ سے جاننا چاہتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ بات اپنے سینئر لیڈروں کے درمیان رکھی ہے۔ کیونکہ فیصلہ لینے اور کرنے سے پہلے کم از کم ان لوگوں کی رائے ضرور آنی چاہیے۔

ایس پی سربراہ نے کہا کہ سب کی الگ الگ رائے ہے،پارٹی کے مفاد میں جو ہوگا اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع بتا رہے ہیں کہ اکھلیش یادو کرہل کے بعد اعظم گڑھ کے پارٹی کارکنوں سے بات کریں گے اور فیصلہ کریں گے کہ انہیں کس سیٹ سے استعفیٰ دینا ہے۔ واضح ہو کہ اکھلیش کرہل سے ایم ایل اے بنے ہیں۔

ایم ایل اے بننے کے بعد اکھلیش یادو نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ انہیں کرہل اسمبلی سے استعفیٰ دینا ہے ،یا اعظم گڑھ لوک سبھا سیٹ سے۔ اکھلیش یادو گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں اعظم گڑھ سے ایم پی منتخب ہوئے تھے۔ اسی دوران وہ مین پوری کے کرہل سے ایم ایل اے بھی بن گئے۔ اکھلیش کو اب یا تو اعظم گڑھ سے ایم پی یا کرہل سے ایم ایل اے کے طور پر ایک سیٹ چھوڑنی ہوگی۔

تاہم اکھلیش کے اعظم گڑھ آنے کی اصل وجہ ان کے ایم ایل اے کے ذہنوں کو ٹٹولنا ہے۔ ایس پی سربراہ یہاں کے ایم ایل اے اور عہدیداروں سے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اگر وہ اعظم گڑھ سے ایم پی کو چھوڑ دیتے ہیں تو پوروانچل میں سماج وادی پارٹی کی حکمت عملی پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button