بین ریاستی خبریں

بنگال میں 8 لوگوں کو زندہ جلانے کا معاملہ کلکتہ ہائی کورٹ پہنچا 

کولکاتہ ،23؍مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) خواتین کے قومی کمیشن (این سی ڈبلیو) نے کہا کہ بیر بھوم ضلع میں ایک سیاسی کارکن کے قتل کے نتیجے میں علاقے میں کم از کم آٹھ مکانات خاکستر کردیا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور نابالغوں سمیت آٹھ افراد کی موت ہو گئی۔ کمیشن خواتین سمیت لوگوں کے ساتھ ہونے والی بربریت سے سخت پریشان ہے اور اس نے ان علاقوں میں خواتین کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کرنے میں حکام کی طرف سے کوتاہی کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔
اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ خواتین اس قسم کے بحران میں سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں، ان کی حفاظت کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ریکھا شرما نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، مغربی بنگال کو ذاتی طور پر مداخلت کرنے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیز تمام ملزمان کی فوری گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔بیر بھوم میں تشدد کے بعد 8 لوگ جل کر ہلاک ہوگئے۔
اب یہ معاملہ کلکتہ ہائی کورٹ میں پہنچ گیا ہے۔ جہاں اس معاملے کی سماعت دوپہر 2 بجے ہوگی۔ مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع کے رام پورہاٹ میں تشدد کے واقعہ میں کلکتہ ہائی کورٹ نے آج از خود نوٹس لیا اور مقدمہ درج کیا۔ مغربی بنگال میں ٹی ایم سی لیڈر کے قتل کے بعد شروع ہونے والے تشدد میں آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جس کے بعد وزارت داخلہ نے اس معاملے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ منگل کو مغربی بنگال کے بیر بھوم کے رام پورہاٹ علاقے میں ترنمول کانگریس کے لیڈر بہادر شیخ کے قتل کے بعد ایک ہجوم نے کئی گھروں کو نذر آتش کر دیا۔ جس میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بیر بھوم واقعہ پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button