
باہوبلی عتیق احمد پر اور کسایوگی حکومت کاشکنجہ،18 جائیدادپرکیاقبضہ
پریاگراج:(اردودنیا.اِن)مافیا قرار دئے جاچکے سابق باہوبلی ممبر پارلیمنٹ عتیق احمد پریوگی حکومت کا شکنجہ مسلسل کستا جارہا ہے۔ آپریشن نیست ونابود مہم کے نام پریاگراج کے سرکاری عملے نے عتیق احمد کی مزید 18 املاک ضبط کرلی ہیں۔ یہ قرقی عتیق کے خلاف درج ایک گینگسٹر کیس کے تحت کی گئی ہے۔باہوبلی عتیق احمد کے یہ تمام اثاثے پریاگراج شہر کے کریلی علاقے کے گاؤں عین الدین پور میں ہیں۔ یہ جائیداد 18 بیگہ کے رقبے پرپھیلے ہیں،
جس کا تخمینہ 20 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ ان پانچ املاک پر پولیس نے قرقی کا بورڈ لگا دیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ یہ زمینیں عتیق کے آباؤ اجداد کی ہیں اور وہ انہیں اپنے نانا سے وراثت میں ملی ہے۔ ان میں سے کچھ خالی اراضی کاشت کی تھی، جبکہ بیشتر عتیق کے قریبی پلانٹنگ کر رہے تھے۔پولیس نے کچھ دن قبل ضلع انتظامیہ سے ان اثاثوں کو ضبط کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ ڈی ایم بھنو چندر گوسوامی کی منظوری کے بعد پولیس نے اب جاکر عتیق کی ان جائیدادوں پر قبضہ کرلیا ہے۔
آپریشن مافیا کے تحت رواں سال یکم جنوری کو پریاگراج میں عتیق کی 37 بیگہ اراضی پر قبضہ کیا گیا تھا۔ سرکاری عملہ اب تک بلڈوزر کے ذریعہ عتیق احمد کی بہت ساری عمارتوں پرقبضہ کر چکا ہے، جبکہ متعدد کو ضبط کیا گیا ہے۔ عتیق کے خلاف کارروائیوں کا یہ سلسلہ تواتر سے جاری ہے اور اس وقت یہ تھمتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔



