بین ریاستی خبریں

بیر بھوم تشدد کیس: 21 ملزمان گرفتار، ان میں سے بیشتر کا تعلق ٹی ایم سی سے، مسلح فسادات کی لگائی دفعات

کولکاتہ،26مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع میں تشدد کے سلسلے میں پولیس نے 21 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مبینہ طورپر ریاست میں حکمراں ترنمول کانگریس کے کارکن ہیں۔ دوسری طرف سی بی آئی نے ان 21 ملزمان کے خلاف دفعہ 147، 148، 149 اور آئی پی سی کی دیگر دفعات لگائی ہیں۔

کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعہ کو بیر بھوم ضلع کے باگتوئی گاؤں میں آٹھ لوگوں کو زندہ جلائے جانے کے بعد سی بی آئی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔ دباؤ میں آکر ممتا حکومت نے پولیس کو فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔گزشتہ 72 گھنٹوں میں پولیس نے 21 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس 2011 میں بنگال میں برسراقتدار آئی تھی۔اس کے بعد حکمران جماعت کے کارکنوں کی یہ سب سے بڑی گرفتاری ہے۔ پولس نے ٹی ایم سی کے نائب سربراہ بھادو شیخ کے قتل کے ایک ملزم کو بھی گرفتار کیا ہے۔ یہ تشدد بھادوشیخ کے قتل کا بدلہ تھا، جس میں آٹھ افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔

اس تشدد میں کل 10 لوگ مارے گئے ہیں۔بھادو شیخ کے خاندان کے چھ افراد زندہ جلانے کے معاملہ میں گرفتار ملزمان میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ رام پورہاٹ بلاک کے ٹی ایم سی صدر انوارالحسین بھی شامل ہیں۔ تین افراد تعمیراتی سامان کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور ان کا تعلق بھادو شیخ سے بتایا جاتا ہے،باقی سب ٹی ایم سی کے کارکن ہیں۔ انوارالحسین کو ممتا بنرجی کی ہدایت پر گرفتار کیا گیا ہے۔

انوارالحسین کو 14 روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ زندہ جلنے والوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کا ماسٹر مائنڈ ہے۔بیربھوم تشدد کو لے کر بھی سیاست گرم ہے۔ گوربی جے پی قائدین، سی پی آئی (ایم) اور کانگریس نے ممتا حکومت پر تنقید کی ہے،جبکہ کانگریس اور بی جے پی نے ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button