وزیر داخلہ کی موجودگی میں دونوں ریاستوں کے وزیر اعلیٰ نے کئے دستخط
نئی دہلی ، 29مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) آسام اور میگھالیہ کے درمیان 50 سال پرانا سرحدی تنازع ختم ہو گیا ہے۔ دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے آج دہلی میں ایک معاہدے پر دستخط کر کے تنازعہ کو سرے سے ختم کر دیا۔ اس دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی موجود تھے۔ ان کی موجودگی میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما اور میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ سنگما نے وزارت داخلہ میں معاہدے پر دستخط کیے۔
میٹنگ میں دونوں ریاستوں کے چیف سکریٹری بھی موجود تھے۔معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج آسام اور میگھالیہ 12 میں سے 6 متنازعہ نکات پر سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ سرحد کی لمبائی کے لحاظ سے تقریباً 70 فیصد سرحد تنازعات سے پاک ہو گئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ باقی 6 جگہیں بھی مستقبل قریب میں حل ہو جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ آج کا دن تنازعات سے پاک شمال مشرق کے لیے ایک تاریخی دن ہے، جب سے پی ایم مودی جی ملک میں وزیر اعظم بنے ہیں، تب سے ہی امن عمل، ترقی، خوشحالی اور ثقافتی وراثت کے فروغ کے لیے بہت سی کوششیں کی گئی ہیں۔
شمال مشرقی ریاست میگھالیہ کو 1972 میں آسام سے الگ کیا گیا تھا اور اس نے آسام تنظیم نو قانون 1971 کو چیلنج کیا تھا، جس کی وجہ سے مشترکہ 884.9 کلومیٹر طویل سرحد کے مختلف حصوں میں 12 علاقوں سے متعلق تنازعات پیدا ہوئے۔ دونوں ریاستوں کے درمیان متعدد بار سرحدی تنازعات جنم لے چکے ہیں۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے وزارت داخلہ میں معاہدے سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ میگھالیہ کے سی ایم کونراڈ کے سنگما نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی طرف سے اس سرحدی تنازعہ کو حل کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ جب ہندوستان بنگلہ دیش تنازعہ حل کر سکتے ہیں تو ملک کی دو ریاستوںمیں سرحدی تنازع کیوں ختم نہیں ہوسکتا ؟ ہم وزیر داخلہ امیت شاہ اور آسام کے وزیر اعلی کے بہت شکر گزار ہیں۔ ہم نے 12 میں سے چھ تنازعات کو حل کر لیا ہے۔ اس سے سرحدی علاقوں میں امن بحال ہوگا۔



