محمد شامی ٹیم انڈیا کے تیز گیند باز 87 mph؍ کلو میٹر فی گھنٹہ کی تیز رفتار کےگیند باز
✍️ سلام بن عثمان،کرلاممبئی
محمد شامی 30 ستمبر 1990 کو یوپی کے شہر امروہہ کے گاوں سہس پور میں پیدا ہوئے۔ والد توصیف علی کسان تھے ساتھ ہی اپنے وقت کے تیز گیند باز بھی تھے۔ شامی کو بھی کرکٹ سے بہت دلچسپی تھی۔ والد نے ان کے شوق کو دیکھتے ہوئے محمد شامی Mohammed Shami کو مرادآباد شہر لے گئے اور وہاں کےمشہور کوچ بدرالدین صدیق سے کہا کہ بھائی آپ اسے کرکٹ کی تربیت دیں۔
یہ تیز گیند باز ہے اور ایک اچھا تیز گیند باز بنائیں۔ محمد شامی ہر روز اپنے گاؤں سے 22 کلو میٹر دور مرادآباد جایا کرتے اور کرکٹ کے ہر ہنر کو بہت ہی دلچسپی سے سیکھتے۔ بدرالدین صدیق نے محمد شامی کو تیز گیند بازی میں ہر طرح کی تکنیک سیکھائی۔
دوران تربیت محمد شامی نے بھی سخت محنت کی۔ پریکٹس کے بعد بھی پرانی گیند سے وہ اکثر گیند کرتے جس میں ان کا اصل مقصد پرانی گیند کے ذریعے ریورس سوئنگ کس طرح کی جائے اس صلاحیت پر بہت زیادہ دلچسپی رکھی جس کی وجہ سے ٹیم انڈیا کے کامیاب تیز گیند باز کے طور پر سامنے آئے۔
محمد شامی نے کبھی پیسوں کی طرف دھیان نہیں دیا۔ ان کا مقصد صرف اور صرف اسٹمپ تھا۔ اور وہ آواز جو گیند اسٹمپ سے ٹکرانے کے بعد آتی ہے اس آواز کو وہ سننا پسند کرتے تھے۔ ان کی گیند ہمیشہ وکٹ پر ہوا کرتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی محمد شامی گیند کو وکٹ کے دونوں طرف سوئنگ کرانے میں بھی مہارت تھی۔
بدرالدین صدیق نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ "جب میں نے 15 سال کے اس بچے کو نیٹ پر گیند بازی کرتے دیکھا تو مجھے یہ احساس ہوگیا کہ یہ بچہ عام بچوں جیسا نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے میں نے اس کی تربیت میں بہت زیادہ دلچسپی لی۔ ایک سال تک محمد شامی سے بہت سخت محنت کرایا۔ شامی نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
یہاں تک کہ تربیت کے دوران کبھی بھی ایک دن کی چھٹی نہیں لی اور نہ ہی کبھی جلدی جانے کے لیے کہا۔” اس کی اس محنت کی وجہ سے اس نے انڈر19 کے پریکٹس میچ میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مگر کسی سیاست کی وجہ سے اسے انڈر 19 میں شامل نہیں کیا گیا۔
مگر محمد شامی نے ہمت نہیں ہاری ان کے کوچ بدرالدین صدیق نے ان کے والد کو مشورہ دیا کہ شامی کو کولکتہ بھیج دیں۔ محمد شامی کو کولکتہ کے ڈلہوزی ایتھلیٹک کلب سے کھیلنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد بنگال کرکٹ ایسوسی ایشن کے سابق اسسٹنٹ سیکریٹری داس سے سفارش کی گئی۔
داس محمد شامی کی گیند بازی سے بہت متاثر تھے۔ انھوں نے اپنے کلب میں شامل کیا۔ شامی نے اپنی گیند بازی سے بنگال کے سلیکٹرز کو متاثر کیا جس کی وجہ سے انھیں بنگال کی انڈر22 میں منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد محمد شامی کو کولکتہ کے مشہور کرکٹ کلب موہن بگان جو بنگال کی بہترین کلب میں سے ہے انتخاب کیا گیا۔
ایڈن گارڈن اسٹیڈیم میں نیٹ پریکٹس کے دوران جب سوروگانگولی نے محمد شامی کو گیند کرتے دیکھا، اس کے بعد شامی سے اور بھی گیند کرائی۔
سوروگانگولی بھی شامی کی تیز رفتار گیند بازی سے بہت متاثر ہوئے۔ ریاستی سیلیکٹرز کو شامی کی سفارش کی اور شامی کو 11-2010 کے رنجی ٹرافی سیزن کے لیے بنگال اسکواڈ میں منتخب کیا گیا۔ محمد شامی نے اپنا فرسٹ کلاس میچ اور ٹیسٹ میچ دونوں کا آغاز ہوم گراؤنڈ ایڈن گارڈن سے کیا۔ محمد شامی نے سال 2010 میں ایک ٹی20 میچ میں بنگال کی جانب سے اپنے آغاز میں چار وکٹیں لیں۔
سال 2012 میں ان کی بہترین گیند بازی کی وجہ سے ایسٹ زون کو اپنا پہلا دلیپ ٹرافی کے فائنل میں کامیابی ملی۔ انھوں نے اس میچ میں آٹھ وکٹیں حاصل کیں۔ جس کی وجہ سے شامی کے کیرئیر میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا۔ اس کے بعد انھیں ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس وقت تک محمد شامی نے اپنی شناخت بنالی تھی۔
محمد شامی نے ویسٹ انڈیز دورے کے وقت ان کو سرپرائز پیکیج سمجھا جاتا تھا۔ مگر محمد شامی نے اپنے کھیل کے ذریعے ثابت کیا کہ وہ ایک اچھے گیند باز کے علاؤہ ایک اچھے بلے باز بھی ہیں۔
ٹیم کے کوچ لال چند راجپوت کو اپنی طاقت اور مستقل مزاجی سے باؤلنگ کے ساتھ ساتھ اپنی بلے بازی سے متاثر کیا۔ اور دسویں نمبر پر بلے بازی کرتے ہوئے انھوں نے چیتیشور پجارا کے ساتھ 73 رنز کی اشتراکی اننگ کھیلتے ہوئے بہترین 27 رنز بنائے اور ٹیم انڈیا اے کو فتح دلانے میں کامیاب رہے۔
اس کے بعد نیوزی لینڈ کے دورے میں شامل کیا گیا۔ محمد شامی کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے انھیں محدود اوورز کی لسٹ اے میچ کے اختتام پر ایک عمدہ گیند باز اور تمام طرز کی کرکٹ کا کھلاڑی پسند کیا جانے لگا۔
6 نومبر 2013 کو اپنا پہلا ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا۔
12 مارچ 2022 کو آخری ٹیسٹ میچ سری لنکا کے خلاف کھیلا۔
پہلا یک روزہ بین الاقوامی میچ 6 جنوری 2013 میں پاکستان کے خلاف کھیلا۔ اور آخری یک روزہ بین الاقوامی میچ 29 نومبر 2020 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔ پہلا ٹی20 میچ 21 مارچ 2014 میں پاکستان کے خلاف کھیلا۔ اور آخری ٹی20 میچ 8 نومبر 2021 کو نامبیلا کے خلاف کھیلا۔
2010-11 تک بنگال کرکٹ سے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔ آئی پی ایل میں 13-2011 تک کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے کھیلا۔ 18-2014 دہلی ڈیئر ڈیولز اس کے بعد 22-2019 پنجاب کنگز الیون کی جانب سے کھیلا۔
محمد شامی نے اپنے 57 ٹیسٹ میچوں میں 618 رنز بنائے جس میں دو نصف سنچریاں شامل ہیں۔ بہترین کارکردگی رہی 56 رنز ناٹ آؤٹ۔ گیند بازی میں 212 وکٹیں حاصل کیں اور بہترین گیند بازی رہی 56 رنز کے عوض چھ وکٹیں اور شاندار 14 کیچیز۔
79 یک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 161 رنز بنائے اور بہترین اسکور 25 رنز کے ساتھ گیند بازی میں 148 وکٹیں حاصل کیں اور 28 کیچیز۔
17 ٹی20 میچوں میں بلے بازی کا موقع نہیں ملا۔ گیند بازی میں 18 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ 26 رنز کے عوض تین وکٹیں اور ایک کیچ بھی شامل ہے۔
81 فرسٹ کلاس میچوں میں 914 رنز بنائے جس میں دو نصف سنچریاں اور بہترین اسکور 56 رنز کے ساتھ گیند بازی میں 312 وکٹیں حاصل کیں۔ بارہ مرتبہ پانچ وکٹیں اور دو مرتبہ دس وکٹوں کو نشانہ بنایا۔ بہترین گیند بازی رہی 79 رنز کے عوض سات وکٹیں اور 20 کیچیز۔
محمد شامی کا شمار ٹیم انڈیا کے تیز رفتار گیند بازوں میں ہوتا ہے۔ کپل دیو کے بعد ظہیر خان نے جگہ لی۔ اور ظہیر خان کے بعد تیز رفتار گیند باز کے طور پر محمد شامی نے جگہ کی۔




