بین ریاستی خبریں

تمل ناڈو :ریاست میں تیسری طاقت بننے کے بی جے پی کے دعوے کو اسٹالن نے کیا مسترد

نئی دہلی،3اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ریاست کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن نے تمل ناڈو میں تیسری طاقت کے طور پر ابھرنے کے بی جے پی کے دعوے پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ دعویٰ بھی ایسا ہی ہے کہ ایک بچے کو کلاس میں 90 فیصد، دوسرے کو 50 فیصد اور تیسرے کو 10 فیصد نمبر آتے ہیں۔

10 فیصد نمبروں کے ساتھ وہ تیسری قوت بننے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اسٹالن نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی زبردست جیت کے دعوے کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں بی جے پی کی تعداد کم ہوئی اور پنجاب میں اسے دو سیٹیں ملی اور کئی بڑے لیڈر الیکشن ہار گئے۔ ان کے 10 وزراء بشمول ایک نائب وزیر اعلیٰ الیکشن ہار گئے۔ گوا میں بی جے پی کے کئی تجربہ کار لیڈر اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کو بھی انتخابات میں شکست ہوئی۔

چنانچہ مجموعی طور پر پانچ اسمبلی انتخابات کے نتائج بی جے پی کے لیے منفی رہے ہیں۔فروری میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بعد بی جے پی نے DMK-AIADMK کے بعد تمل ناڈو میں واحد سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈی ایم کے نے دو تہائی سے زیادہ سیٹیں جیت لی ہیں۔ وہیں بی جے پی نے بھی 300 سے زیادہ سیٹیں جیت لی ہیں۔

تب سے بی جے پی کے پرجوش کارکن تمل ناڈو میں کمل ’کھلانے ‘کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ تمل ناڈو میں بی جے پی کے ریاستی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ اب سرکاری طور پر بی جے پی تیسری طاقت بن گئی ہے۔ تمل ناڈو میں بھی اس کا ووٹ فیصد 10 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button