ممبئی ،4اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مہاراشٹر کے مشہور بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کیس کے ملزم سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کو کندھے کی سرجری کے لیے ہفتے کے روز اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انہیں یکم اپریل کو سی بی آئی نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ دریں اثنا داؤد ابراہیم سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک کی عدالتی تحویل میں 18 اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے۔
دیشمکھ کو ای ڈی نے گزشتہ سال نومبر میں غیر قانونی وصولی اور منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ تب سے وہ جیل میں ہے۔ یکم اپریل کو سی بی آئی نے انہیں 100 کروڑ روپے کی غیر قانونی وصولی کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا۔سی بی آئی نے 21 اپریل 2021 کو دیشمکھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کی۔
سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن نے پہلے دیش مکھ کو کلین چٹ دے دی تھی، لیکن بعد میں معاملے کی جانچ کے لیے ایف آئی آر درج کی گئی۔ یہ معاملہ آئی پی ایس پرم ویر سنگھ کے انکشاف سے متعلق ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ ہونے کے ناطے سنگھ نے دیش مکھ پر ماہانہ 100 کروڑ روپے کی وصولی کا حکم دینے کا الزام لگایا ہے۔
ادھر منی لانڈرنگ کی خصوصی عدالت نے پیر کو نواب ملک کی تحویل میں توسیع کر دی۔ اسے ای ڈی نے داؤد ابراہیم کی جائیداد خریدنے کے معاملہ میں گرفتار کیا ہے۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ ملک کو عدالتی حراست کی مدت ختم ہونے کے بعد آج عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے حراست میں 18 اپریل تک توسیع کر دی۔ ملک نے عدالت سے گھر کا کھانا اور ادویات مانگ لیں۔اس کے ساتھ انہوں نے اپنی گرفتاری کو غیر قانونی اور آئین کے خلاف قرار دیا۔



